درد کے لمحے – ڈاکٹر عافیہ
Saturday 6 February 2010
دہشت گرد ماں“کہا ہے -
سوری عافیہ ۔۔۔۔۔۔ہم ُا پ کو نہیں بچا سکتے
موضوع : Uncategorized
اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے
دہشت گرد ماں“کہا ہے -
سوری عافیہ ۔۔۔۔۔۔ہم ُا پ کو نہیں بچا سکتے
موضوع : Uncategorized
اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے
اُسے کہنا کہ بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے ۔۔۔
وہی گلیاں، وہی کُوچے، وہی سردی کا موسم ہے
موضوع : Uncategorized
تبصرے (9)
لفظ اگر شاعری کی صورت میں جڑے ہوں تو بہت سحر انگیزہوجاتے ہیں -
پر کیا کیا جائے کہ شاعری سے شغف کے باوجود ہمیشہ سے بہت ہی کم سخن دوستوں سے واسطہ رہا ہے اور شاذو نادر ہی یہ موقع ملتا ہے کہ بہت فرصت سے بیٹھ کر کاغذ پر اشعار رقم کئے جائیں- ایسی ہی ایک خوبصورت شام بہت سارے لکھےگئے اشعار آج یاد کے دریچوں پہ دستک دے رہے ہیں
یونہی شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بچھڑ کر لوگ ذیادہ جیا نہیں کرتے
گو میں رہا رہیں ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
ہم نے ہر دکھ کو محبت کی عنایت سمجھا
ہم کوئی تم تھے جو اوروں سے شکایت کرتے
جسے گنتے آپ آشنا ،جسے کہتے تھے آپ باوفا
میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی میرا بے حد خیال رکھتے ہیں
مجھے دشمن کے ارادوں پہ پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت میری عادت کردی
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہی شخص ہے جہاں میں کیا
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اسے دن بھر تتلیاں ستاتی ہیں
رات میں جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع : Uncategorized
تبصرے (2)
آمنہ بتول۔۔۔ آج اسلامک یونیورسٹی کی ایک اور طلباء اپنے زخموں سے ہارتے ہوئے خاموشیوں کے سفر پر روانہ۔
والدین کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی ایک بہن۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی شنا سائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی قربت۔۔۔
پر بہت دیر سے اس خبر نے باندھ رکھا ہے کہ کوشش کہ باوجود زندگی کی بے ثباتی پوری شدت سے محسوس ہورہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا جذبہ ہوتا ہے جو انسان کو اتنا سفاک کردیتا ہے
کہ وہ اپنے جیسے دھڑکتے دلوں بہت آسانی سے خاموش کردیتا ہے ۔۔۔۔۔ ہستی مسکراتی آنکھوں سے خواب چھین لیتا ہے؟ اکتوبر کی صبح آنکھوں میں ڈھیروں خواب لئے ۔۔۔ کچھ سیکھنے کے عزم میں گھر سے نکلتے ان قدموں نے کیا کبھی سوچا ہوگا کہ واپسی کا سفر اتنی خاموشی سے ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کے احاطے میں اپنی دوستوں کے ہمراہ کیفے ٹیریا کی طرف بڑھتے ہوئے اسے کیا خبر تھی کہ وہ اپنی موت سے ملنے جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع : Uncategorized
تبصرے (5)
فلسفہء دوستی
“تمہارا دوست وہ ہے جو تمہاری احتیاج پوری کرے”
“وہ تمہارا وہ کھیت ہے جس میں تم محبت کی تخم پوشی کرتے ہو”
“اسی کھیتی کو تم تشکر اوراطمینان کے ساتھ کاٹتے ہو”
“اور جب تمہارا دوست اپنے دل کی کوئی بات تم سے کہتا ہے – تو تم کو نہ اپنے دل کی “نہیں“ متردو کرتی ہے – نہ تم اس کو اپنی “ہاں“ سے محروم رکھتے ہو”
“اور جب وہ خاموش ہوتا ہے تب بھی تمہارا دل اس کے دل کی گفتگو سننے سے عاری نہیں ہوتا”
“اس لئے کہ بغیر الفاظ کی مدد کے ، دوستی کے افکار ، تمام خیالات ، “تمام خواہشات، تمام توقعات، تمام ارادے پیدا ہوتے ہیں”
“ان سے دوستوں کے لئے ایک مسرت حاصل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ بے طلب”
“اور دوستی کا کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ، سوائے اس کے کہ تم دوست کے ساتھ ایک مشترک روحانی گہرائی میں شریک ہوجاؤ”
” اس لئے کہ محبت نہیں چاہتی کہ اس کا بھید واضح ہو جاوے”
“اور جو کچھ تمہارے اندر بہتر اور اعلی تر ہے وہی دوست کو دو”
اگر وہ چاہتا ہے تمہارے “مد“ کے “ جزو“ بھی دیکھے
” تو اس کو اپنے دریا کی طغیانی بھی دیکھا دو -”
“اس لئے کہ وہ تمہارا دوست ہی کیا ہے جسے تم صرف اس لئے ڈھونڈتے رہو کہ اس کی صحبت میں تم اپنا خالی وقت گزار سکو – وہ ساعتیں جو تم پر گراں ہیں-”
“بلکہ دوست کو تو اس وقت ڈھونڈو جب تم بیداری عمل کا وقت گزارنا چاہو”
“اس لئے کہ دوست کا کام یہ ہے کہ وہ تمہارے تقاضوں اور تمہاری ضرورتوں کو پورا کرے”
“نہ یہ کہ تمہارے اوقات کے خالی کاسہ کو بھرا کرے !”
“اور دوستی کی حلاوت میں اپنے تبسم کو ملادو ، اور اپنی مسرتوں کو مشترک کرلو“
موضوع : Uncategorized
تبصرے (5)
میں خزاں کی شام ہوں
رت بہار کی ہے تو
دوستوں کے درمیاں
وجہ دوستی ہے تو
میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو
میں تو وہ نہیں رہا
موضوع : Uncategorized
تبصرے (12)
نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ
بازنطائن -قسطنطینہ – استنبول”
وینس کی خوبصورتی کا انحصار سمنرد پر ہے پر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لئے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے – صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد- نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار- ترک سلطانوں کا محل سرا- شاخ زریں پر پل – الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لمبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑھے ہوں
اس خطے میں گرمیوں میں کسی بھی وقت تاریکی نہیں ہوپاتی- رات کو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دینے والی تاریکی کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں ہے ، وہ سویڈن آکر مہمل ہوجاتا ہے – گرمیوں میں گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے تو صبح دو بجے طلوع ہو جاتا ہے -یہاں تک کے صبح تین بجے دھوپ ہمارے ہاں کی تیز دوپہروں کی مانند چمک رہی ہوتی ہیں – طلوع و غروب کے درمیانی وقفے میں بھی زمین اور فلک کے درمیاں روشنی کی مدھم چادر بچھی رہتی ہے- اہل سویڈن اس روشنی کو نیلی شفق کا نام دیتے ہیں
موضوع : Uncategorized
تبصرے (7)
“فلسفہ محبت“محبت کیا ہے
“ جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے
جاؤ“
‘ باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں“
‘اور جب وہ تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو برضا لپٹ جاؤ“
“ اور جب وہ تم سے بات کرے تو اس کا یقین کرو“
“خواہ اس کی آواز تمہارے تمام مرغوب خوابوں کو منتشر کردے ۔ ۔ ۔ جس طرح نسیم شمالی باغیچہ کو ویران کر ڈالتی ہے“
یاد رکھو کہ محبت تمہارے سر پر تاج رکھتی ہےتو ساتھ ہی تمہیں سولی پر بھی چڑھا دیتی ہے-
جس طرح وہ تمہاری روح کے سبزہ زار کو شاداب رکھتی ہے اس طرح وقتا ً فوقتا ً اس سبزہ زار کی بہت سی بے کار اور خودرو گھاسکو تراشتی اور چھانٹتی بھی رہتی ہے-
“ محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے !“
“ اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس جوہر لطیف کے جو اسی کا ہے“
“ محبت قبضہ نہیں کرتی ، نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے“ اورجب تم محبت کرو تو اس سے یہ نہ کہنا کہ
“وہ میرے دل میں ہے“
بلکہ کہو تو یہ کہ کہ
“میں اس کے دل میں ہوں“
“اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ تم محبت کو راستہ بتا سکتے ہو“
وہ تم کو راستہ بتاتی ہے، بشرطیکہ تم کو اس قابل پائے“
پھر اگر تم محبت کرو، اور خوائشیں اور تمنائیں بھی رکھو تو گھل کر پانی ہوجاؤ۔ ۔ ۔ ۔ بہتے چشمے کی طرح “جو شب کی ظلمت کو اپنا نغمہ سنا تا ہے“
پھر اس درد کو پہچانو جو اس چشمے کے اندر سے ذوق پیدا کرتا ہے“
“اور محبت کے متعلق جو کچھ علم تم کو حاصل ہوجائے اسی سے مجروح ہوجاؤ“
طلوع آفتاب کے وقت اس طرح بیدار ہوجاؤ کہ گویا “دل ایک پرند ہے “
“جو اپنے پر کھولے ہوئے آمادہ پرواز ہے“
اورشکر کرو کہ محبت کرنے کا ایک اور دن نصیب ہوا ہے“
دوپیر کو جب تم آرام کرو تو اس آسائش کی ساعت میں بھی محبت کے کیف بے نہایت سے لطف اندوز ہو“
دن بھر کی محبت کے بعد شام کو گھر آؤ ۔ ۔ ۔ محبت کے احسان مند اور شکر گزار ہوکر-“
“پھر شب کو اس طرح اپنی آنکھیں بند کرو کہ دل محبوب کے لئے دعاؤں سے معمور ہو“
اور تہارے لبوں پر مدح توصیف کی ایک راگنی رقص کر رہی ہو“
موضوع : Uncategorized
تبصرے (11)
خودکلامی
بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خوائش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔
بہت بار بہت سے موضوعات پر لکھنے کی خوائش تو رہتی ہے پر آج دل کی خوائش ہے کہ ساری مصروفیات کو ترک کرکے صرف باتیں کی جائیں ۔ ۔ عجیب سی یاسیت ہے جو بہت دنوں سے ساتھ محسوس ہوتی ہے ہر ایک شے ٹھہری ہوئی ،جامد سی محسوس ہوتی ہے یوں لگتا ہے جیسے بہت دن سے ہوگئے ہوں خود کلام ہوئے
مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خوائش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے
موضوع : Uncategorized
تبصرے (7)
پروین شاکر کی یاد میں
رواں صدی میں اردوادب کی خواتین شعرا کا ذکر پروین شاکر کے تذکرے کے بناء نامکمل سا لگتا ہے
بعض نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ـانکی کتابوں کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں ـ
خوشبو-١٩٧٦صد برگ ١٩٨٠خود کلامی ١٩٨٠انکار 1٩٩٠
ماہِ تمام ١٩٩٤
”خوشبو
ابر بہار نے
پھول کا چہرہ
اپنے بنفشی ہاتھ میں لے کر
ایسے چوما
پھول، خوشبو، ہوا، بادل، رنگ، تتلیاں ، موسم، پروین کی شاعری کے استعارے ہی نہیں بلکہ نوخیز اور نوعمر جذبوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی۔۔۔
موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں
کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے
موضوع : Uncategorized
تبصرے (17)
اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔