پروین شاکر کی کتاب “انکار” سے نظم ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے ۔ ۔ ۔
ایک اداس نظم
یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
تیرے پیرہن کی خوشبو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر!
ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئے گا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصہ جدائی
کوئی کار نا مکمل
کوئی خواب نا شگفتہ
کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے!
ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہد مہربا ں میں
کسی خواب کے یقین میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں!
(پروین شاکر- انکار )
کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے
بشیر بدر
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف . .
گزشتہ چند ایام سے ڈاکٹر عبدالقدیر کی قید میں نرمی ، ان کا بیاں، عزیز و اقارب کے ساتھ ملنے کی
اجازت ، جیسے بیاں پڑھ کر دل چاہا کہ لکھا جائے ویسے بھی بلاگ کے آغاز سے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر پر لکھنے کی خوائش کے باوجود اس احساس ندامت نے کبھی لکھنے نہ دیا کہ میں اس قوم کا حصہ ہوں جو اپنے محسن کے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہے ۔ہماری بےحسی کا عالم تو یہ ہے کہ ہم اپنے محسن کو سر عام معافی مانگتے دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
بحیشیت پاکستانی قوم پچھلے چند سالوں میں کی جانے والی غلطیوں میں ایک ناقابل تلافی غلطی ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ کیا جانے والا برتاؤ ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔
کیا قومیں اپنے محسنوں کے ساتھ یہی سلوک رواں رکھتی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟
ایک ایسی قوم جہاں کبھی کسی نے اپنے گناہوں اور غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان پر فخر کیا وہاں
ملک کے سب سے پڑے سائنسدان نے ان گناہوں کی معافی مانگی جو شاید اس نے کبھی کئے ہی نہیں ۔ ۔ ۔
اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ لکھیں تو کوئی معافی نہیں مانگتا ۔ ۔کبھی کسی نے معافی نہیں مانگی اس ملک میں وہ بھی حکمران رہا جس کے غیر ملکی دورے کے دوران جہاز محض اس لئے دو گھنٹے فضا میں چکر لگاتا رہا کہ صدر محترم کا نشہ اتر جائے اور جب وہ دشمن پر حملہ کرنے کا حکم دینے نکلے تو دو جوانوں نے انہیں دائیں بائیں اٹھا رکھا تھا ۔ ۔پر اس نے کبھی معافی نہیں مانگی
ماضی کا کوئی پالیسی میکر ،کوئی سیاستدان، کوئی خطیب ،کوئی حکمراں معافی نہیں مانگتا وہ بھی نہیں جن کے لانز میں دودو لاکھ کے کتے اور اصطبلوں میں ساتھ ساتھ لاکھ کے ارجنٹائن گھوڑے رہے ۔ ۔جن کے ہوٹلوں کے بلز کئی کئی کروڑوں سے تجاویز کر جاتے ہیں جن کی زمینوں پر لاکھوں مزارعے جانوروں جیسی زندگی گزارتے ہیں اور جو ہر سال اپنی عیاشیوں میں کروڑوں روپیہ لٹا دیتے ہیں
کہتے ہیں کہ معافی مانگنے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر پھوٹ پھوت کر روئے تھے کیا ہم ان آنسوؤں کا ازالہ کر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا ہم اس دکھ کا حساب دے سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟
سوائے اس کے کہ ہم بے حد شرمندہ ہیں ۔ ۔ ۔
فلسفہ محبت
محبت کیا ہے؟؟؟؟جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے جاؤ“
‘ باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں ‘اور جب وہ تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو برضا لپٹ جاؤ“
“ اور جب وہ تم سے بات کرے تو اس کا یقین کرو“
“خواہ اس کی آواز تمہارے تمام مرغوب خوابوں کو منتشر کردے ۔ ۔ ۔ جس طرح نسیم شمالی باغیچہ کو ویران کر ڈالتی ہے“
یاد رکھو کہ محبت تمہارے سر پر تاج رکھتی ہےتو ساتھ ہی تمہیں سولی پر بھی چڑھا دیتی ہے-
جس طرح وہ تمہاری روح کے سبزہ زار کو شاداب رکھتی ہے اس طرح وقتا ً فوقتا ً اس سبزہ زار کی بہت سی بے کار اور خودرو گھاسکو تراشتی اور چھانٹتی بھی رہتی ہے-
محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے !“
“ اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس جوہر لطیف کے جو اسی کا ہے
“ محبت قبضہ نہیں کرتی ، نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہےاورجب تم محبت کرو تو اس سے یہ نہ کہنا کہ
“وہ میرے دل میں ہے“
بلکہ کہو تو یہ کہ کہ
“میں اس کے دل میں ہوں“
“اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ تم محبت کو راستہ بتا سکتے ہو“
وہ تم کو راستہ بتاتی ہے، بشرطیکہ تم کو اس قابل پائے“
پھر اگر تم محبت کرو، اور خوائشیں اور تمنائیں بھی رکھو تو گھل کر پانی ہوجاؤ۔ ۔ ۔ ۔ بہتے چشمے کی طرح “جو شب کی ظلمت کو اپنا نغمہ سنا تا ہے“
پھر اس درد کو پہچانو جو اس چشمے کے اندر سے ذوق پیدا کرتا ہے“
“اور محبت کے متعلق جو کچھ علم تم کو حاصل ہوجائے اسی سے مجروح ہوجاؤ“
طلوع آفتاب کے وقت اس طرح بیدار ہوجاؤ کہ گویا “دل ایک پرند ہے “
“جو اپنے پر کھولے ہوئے آمادہ پرواز ہے“
اورشکر کرو کہ محبت کرنے کا ایک اور دن نصیب ہوا ہے
دوپیر کو جب تم آرام کرو تو اس آسائش کی ساعت میں بھی محبت کے کیف بے نہایت سے لطف اندوز ہو“
دن بھر کی محبت کے بعد شام کو گھر آؤ ۔ ۔ ۔ محبت کے احسان مند اور شکر گزار ہوکر-“
“پھر شب کو اس طرح اپنی آنکھیں بند کرو کہ دل محبوب کے لئے دعاؤں سے معمور ہو“
اور تہارے لبوں پر مدح توصیف کی ایک راگنی رقص کر رہی ہو“
” لا حاصل ”
دور سے دکھائی دیتےسفید برف سے ڈھکے ٹند منڈ کے درخت ۔ ۔جنھیں قریب سے دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ
انسانی ہاتھ ۔ ۔
بہت کم سرورق پر بنی تصویریں ا تنی سحر انگیز ہوتی ہیں جو آپ کو رکنے پر ،ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔۔ یوں لگتا ہے کہ اپنے سحر سے وہ باندھ رہی ہو ۔سوچ کے راستے کھولتے ہوئے ۔ ۔ اس کتاب کے ہاتھ میں آتے ہی پہلا خیال یہی آیا کہ
خوائش کیا ہوتی ہے؟ کیسی ہوتی ہے ؟ اور اگر زندگی میں خوائشات کی سمت صحیح نہ ہو ۔ ۔ ۔
تو سب کچھ میسر ہوتے ہوئے بھی انسان کیسے ” لا حاصل ” رہ جا تا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
خالی ہاتھ رہ جانا کیا ہوا کرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی دل لئے پھرے ؟؟؟؟؟؟
کچھ اقتبا سات کی صورت . . دل چاہا کہ اس ناول سے سب کی آشنائی کروائی جائے
”اس سے ذیادہ تکلیف دہ چیز کوئی اور ہوسکتی ہے کہ جس سے آپ محبت کرتے ہیں وہ آپ کو دیکھتا تک نہ ہو- آپ کے علاویہ اس کو سب نطر آتے ہوں- سب کا خیال ہو اسے- وہ سب سے بات کرتا ہو ۔ ۔ ۔ بس آپ سے بات نہ کرے”
“اگر اللہ سے صرف ایک چیز چاہیے ہو اور وہ بھی نہ ملتی ہو”؟
میں نے اللہ سے صرف ایک چیز مانگی ہے اور وہ بھی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔آپ بتائیے ماما جان!میری دعا میں اثر نہیں یا میں بدقسمت ہوں
”تم بدقسمت نہیں ہو تم نے جو مانگا اس کے نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہاری دعا میں اثر نہیں ہے- ارشاد رسول(ص) ہے کہ زمیں پر جو مسلمان اللہ تعالی سے سے کوئی ایسی دعا کرتا ہو ہے جس مین کوئی گناہ یا قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالی اسے وہی عطا کردیتا ہے جو اس نے مانگا ہیے یا اس کی کوئی تکلیف رفع کردیتا ہے یا اس کے لئے اس دعا کے برابر اجر کا ذخیرہ کردیتا ہے”
کیا آپ کو پتا ہے ماماجان دنیا کتنی خوبصورت ہے؟؟
“ہاں میں جانتی ہوں دنیا کتنی خوبصورت نظر آتی ہے“
“کتنی خوشی ہوتی ہے نا ماما جان جب کسی دکان میں جائیں اور اس قابل ہوں کی وہاں موجود قیمتی چیز بھی خرید سکتے ہوں-“
“اور تمہیں پتہ ہے مریم دنیا میں سب سے سستی چیز کون ہے؟؟؟ خریدار
ماما جان کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے وہ چیز مل گئی ہے جس سے مجھے محبت ہے؟؟
“تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ تمہارے پاس وہ چیز رہے جس سے تمہیں محبت ہے“
“بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا- - - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔
دنیا وہ دو دھاری تلوار ہے جس پر ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے - چلنا ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پیروں کو زخمی کرنے والی چیز سے کیسے محبت کرنے لگتے ہیں لوگ ؟؟؟؟؟؟؟؟ کیوں کرنے لگتے ہیں؟؟؟؟
واقعی ہم کیوں کرتے ہیں ا یسا؟؟؟؟؟؟؟؟؟
(عمیرہ احمد)
آج ایک اور برس بیت گیا ۔ ۔
آج ہی کہیں پڑھا تھا کہ
“زندگی آپ کو بہت کچھ دیتی ہے جو اکثر آپ کو یاد نہیں رہتا ،لیکن یہ زندگی آپ سے بہت کچھ چھینتی بھی ہے اور وہ آپ بھول نہیں پاتے”
پس اس لئے نئے برس کے اہتمام میں دل چاہا کہ گذشتہ سال کے ایام کو رقم کرتے ہوئے شکر خداوندی کی جائے کہ جس نے اس سال اپنوں کے حوالے سے کسی عظیم دکھ یا کسی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرایا-
اس دعا کے ساتھ کہ یہ طمانیت آنے والے سال بھی قائم رہے-
زندگی جو آپ کو دے پتہ نہیں اسے کیوں بھلایا جاتا ہے؟؟؟؟؟؟؟میں تو ان حسین یادوں کو جمع کرنے کی قائل ہوں -جن کے ہونے سے زندگی بہت آسان لگے-
کہیں بہت پیچھے جایا جائے تو ماہ جنوری کے شب وروز عمر بھر کے اثاثے کے طور پر محسوس ہوتے ہیں جنھوں نے زندگی کے نئے رنگوں سے آشنا کرتے ہو ئے اپنی دریافت کے عمل کو یقینی بنایا-اگر یہ کہا جائے کہ اس ایک ماہ نے زندگی کو برتنا سکھایا ہے تو بےجا نہ ہوگا- اپنوں کا ساتھ زندگی کو کتنا آسان کرتا ہے شاید اسے طرز تحریر کرنا بہت مشکل امر ہے-چاہوں بھی تو اس ایک ماہ کو نہیں بھلا سکتی جس نے زندگی کو نئے معنی دیئے-
بہت اچھی اچھی سی یادیں ہیں …جو ذہن کے دریچے پہ دستک دے رہی ہیں ۔ ۔ ۔
22 مارچ کے دن کو خاص بناتی بہت سی باتیں ……۔ ۔
مری کے مال روڑ پرسب گھر والوں کے ساتھ رات گئے تک کی ہوئی واک ۔ ۔ ۔
یا اسی رات تین بجے شیشوں کے اس پار برستی بارش کو دیر تلک دیکھنا ۔ ۔بہت سے ان گنت خوابوں کو اپنی آنکھوں میں بسانا ۔ ۔۔ ۔
اسلام آباد کی آب و ہوا اپنے اندر ایک خاص نرمی اور رومانویت لئے ہو ئے ہے جبھی وہاں کی ڈھلتی شامیں بہت اپنی لگتی ہیں۔۔ ۔خواب دکھاتی ۔ ۔ ۔ امید جگاتی ۔ ۔ ۔ڈھلتے سورج کے ساتھ کی گئی ڈھیر ساری باتیں ۔ ۔ ۔۔بھلانا آسان نہیں ۔ ۔
اسلام آباد کی برستی ہوئی وہ شام جس میں بھیگتے ہوئے زندگی اپنے ہاتھ میں محسوس ہوتی تھی- جس کے اختمام پر مجھے اور بھائی کو یقین تھا کہ ہم ضرور بیمار ہونگے ۔ ۔ ۔
لال مسجد کے تکلیف دہ واقعے کے آغاز میں وہ پہلی دو راتیں جنھیں آنکھوں میں کاٹا تھا ۔ ۔ ۔اس عظیم سانحے پر ناعاقبت اندیش اقدامات نے دنوں رلایا تھا- دکھ کے دنوں میں بہت ڈھارس ہوتی ہے جب اپنوں کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی ہو اور سو چ میں ہم آہنگ لوگوں کا ساتھ ہو -سب کے ساتھ نے وہ دن گزارنے میں بہت مدد کی تھی-
چیف جسٹس افتخار چوہدی کے باحالی کے خواب کی عملی تعبیر کو بہت قریب سے دیکھنا بہتا خوبصورت
عمل تھا- کتنا خوش کیا تھا اس عمل نے کہ 12مئی کا دکھ کم لگنے لگا تھا-
21 جولائی کی وہ دلنشین سی صبح ۔ ۔ ۔ جب کتابوں سے دوستی کے شوق نے پہلی بار نیشنل لائبریری سے آشنائی کرائی تھی- وہ خوبصورت سا,انمول وقت ۔ ۔ ۔جو آج بھی یاد آئے تو اطراف بھولنے سا لگتا ہے
اچانک اچانک سے رات گئے صاحب فراش ہوتے ہوئے بند ہوتی آنکھوں سے سب کے فکر مند چہروں کو دیکھتے ہوئے ایک پل تو لگا شاید اب کبھی ان سب کو نہ دیکھ پاؤں ۔ ۔ ۔ ۔اس کے بعد سب کا ڈھیر سارا خیال ۔ ۔ ۔
غیر محسوس انداذ میں کی گئی سب کی فکر ۔ ۔-محبتوں کا یہ مان کبھی کبھی بہت فخر میں مبتلا کرتا ہے اور کبھی کبھی ڈر میں کہ اتنی محبتوں کا قرض کیسے اتار پاؤں گی؟؟؟؟؟؟؟؟
بہت پیاری سی دوستوں کا ساتھ ۔ ۔ ۔کبھی کبھی ایسے خیال کرتی ہیں کہ ان کا ہونا ایک نعمت سے کم نہیں لگتا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
ایکسپو سینٹر کے کتب میلے میں جانے کی ضد ۔ ۔۔ کتابوں کی دنیا میں گزارا ہوا وہ وقت ۔ ۔ ۔۔
بناء کسی خاص تیاری کے منائی جانے والی زندگی کی پہلی عید ۔ ۔
یادوں کے دریچوں کا ہاتھ تھاموں تو ان گنت یادیں ہیں جو امڈی ہی چلی جارہیں ہیں - جن کا ہونا بہت تقویت دیتا ہے - محبتوں یہ سائے یونہی قائم رہیں -امید کا جگنو تھامے نئے برس کا اہتمام کر رہی ہوں
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!

تم نے چاہا تھا کہ پھولوں سے سجے ارض وطن
اب وہی پھول تمھیں نزر کئے دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ چھوٹی سی بچی جس نے المرتضی لاڑکانہ میں اپنے باپ کے ہاتھوں بندوق سے فائر کرکے درخت پر سے ایک طوطے کو مارنے پر دو دن تک کھانا نہیں کھایا تھا وہ سفاکانہ انداذ میں قتل ہوگئی۔
سیاسی نظریات میں اختلاف اپنی جگہ پر قوم کی بیٹی کے اس بے رحمانہ انداذ میں جان کے ضیاع کا دکھ ہر پاکستانی کو ہے اور ہر بیٹی اس بے رحمانہ قتل کی مذمت کرتی ہے-
آللہ تعالی سے دعا ہے ان کے دانستہ اور نہ دانستہ تمام گناہوں کو معاف فرمائے-
”آخری چند دن دسمبر کے”
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خوائشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں
ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے
ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے
نام میرا بھی
کٹ گیا ہوگا
(امجد اسلام امجد)
“ ???????? کتنے فارغ لوگ ہوتے ہیں جو بلاگ لکھتے ہیں اور کون پڑھتا ہوگا یہ بلاگ “ چند سال قبل کام کے دوران ایک بلاگ کے سامنے آنے پر جب یہ الفاظ کہے تھے تو علم نہ تھا کہ کبھی اپنے ہی الفاظ کا سامنا ہوگا۔ ہر گزرتہ لمحہ اپنے ساتھ کتنی تبدیلیاں لاتا ہے شاید اسے محو سوچ کرنا بہت مشکل امر ہے- ویسے بھی ہمیشہ سے کمپیوٹر سے کم کم دوستی رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جبھی 3 ماہ قبل تیار بلاگ پر آج لکھنے کے عمل سے گزر رہی ہوں۔(اور یہاں بصد اصرار لفظ استعمال کیا جائے تو وہ بہت چھوٹا ہو گا؟؟؟) شاید جنہیں ساری باتیں خود سے کرنے کی عادت ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان کے لئے بولنا اور لکھنا دونوں مشکل مراحل ہوتے ہیں - بہرحال کوشش رہے گی باقاعدگی سے لکھنے کی
