امید

درد کے لمحے – ڈاکٹر عافیہ

Saturday 6 February 2010

  امریکہ کے انصاف پسند ہونے کی اور اعلیٰ مثال ۔۔۔ ڈاکٹر عافیہ پر جرم کا ثابت ہونا  

پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جرم ثابت ہونے پر بیشتر امریکن میڈیا نے اظہار مسرت کرکے اسے 

دہشت گرد ماںکہا ہے -

یقینا جس قوم کے بیٹے اتنے بے حس ہوجائیں کہ ڈالرز کے عوض  اپنی ضمیرآواز کو سلادیں – اس قوم کی مائیں اسی سلوک کی مستحق ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں قوم کے نمائندے ہی اپنے ملک سے تفشیش کے نام پہ بیٹیوں کو لے جانے کی اجازت دیں وہاں بیٹیوں کو دفنانے کے لئے زندہ دفن کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی 
 
  -سوری عافیہ ہم آپ کو نہیں بچاسکتے — ہم اس جانب دار اور تعصب پسند فیصلے پر سوال بھی نہیں کرسکتے – ڈالرز کی امداد پر پلنے والی قوم سوال کرنے کا حق کھو دیتی ہے -تمام عمر ملک میں لوٹ مار کے بعد ہماری جائے پناہ وہیں ہیں -ہمیں احتساب کے عمل سے تحفظ دینے والا اپنا مضبوط آسرا صرف آُپ کی وجہ سے نہیں کھو سکتے-  
 

 

ڈھیر ساری حقوق نسواں کی تنظیموں کے لب بھی خاموش ہیں -وہ اس فیصلے پر آواز بلند نہیں کر رہی۔ کیونکہ کیا ہوا جو ایک بیٹی کے ساتھ یہ سلوک رواں کیا جا رہا ہے ۔۔۔ ماضی میں انھی دوستوں نے ہماری مظلوم بیٹی مختاراں مائی کو بہت عزت سے بھی تو نوازا ہے ۔۔

  سوری عافیہ ۔۔۔۔۔۔ہم ُا پ کو نہیں بچا سکتے

 

 

موضوع : Uncategorized


اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے


بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے

Thursday 31 December 2009

اُسے کہنا کہ بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے ۔۔۔

وہی گلیاں، وہی کُوچے، وہی سردی کا موسم ہے

اسی انداز سے اپنا نظامِ زیست برہم ہے
یہ حُسنِ اتفّاق ایسا کہ نکھری چاندنی بھی ہے

وہی ہر سمت ویرانی، اداسی ، تشنگی سی ہے

 

وہی ہے بھیڑ سوچوں کی وہی تنہائیاں پھر سے

مجھے سب یاد ہے، کچھ سال پہلے کا یہ قصّہ ہے

وہی لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصّہ ہے

میری آنکھوں میں وہ اک لمحئہ موجود اب بھی ہے

وہ زندہ رات میرے ساتھ لاکھوں بار جاگی ہے

کسی نے رات کی تنہائیوں میں سرگوشیاں کی تھیں

کسی کی نرم گفتاری نے دل کو لوریاں دی تھیں

کسی نے میری تنہائی کا سارا کرب بانٹا تھا

کسی نے رات کی چنری میں روشن چاند ٹانکا تھا

چمکتے جگنوؤں کا سیل اک بخشا تھا راتوں کو

دھڑکتا سا نیا عنوان دیا تھا میرے خوابوں کو

میرے شعروں میں وہ اِلہام کی صورت اُترا تھا

معنی بن کے جو لفظوں میں پہلی بار دھڑکا تھا

وہ جس کے ہونے سے زندگی نغمہ سرائی ہے

اُسے کہنا کہ بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے ۔۔۔

 

 

موضوع : Uncategorized


تبصرے (9)


یادوں کے دریچے سے لفظوں کی دستک

Saturday 19 December 2009

 لفظ اگر شاعری کی صورت میں جڑے ہوں تو بہت سحر انگیزہوجاتے ہیں -

پر کیا کیا جائے کہ شاعری سے شغف کے باوجود ہمیشہ سے بہت ہی کم سخن دوستوں سے واسطہ رہا ہے اور شاذو نادر ہی یہ موقع ملتا ہے کہ بہت فرصت سے بیٹھ کر کاغذ پر اشعار رقم کئے جائیں- ایسی ہی ایک خوبصورت شام بہت سارے لکھےگئے اشعار آج یاد کے دریچوں پہ دستک دے رہے ہیں

  یونہی شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے

 بچھڑ کر لوگ ذیادہ جیا نہیں کرتے

 گو میں رہا رہیں ستم ہائے روزگار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

 ہم نے ہر دکھ کو محبت کی عنایت سمجھا

ہم کوئی تم تھے جو اوروں سے شکایت کرتے

جسے گنتے آپ آشنا ،جسے کہتے تھے آپ باوفا

 میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

 جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں

کبھی کبھی میرا بے حد خیال رکھتے ہیں

مجھے دشمن کے ارادوں پہ پیار آتا ہے

  تری الفت نے محبت میری عادت کردی

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہی شخص ہے جہاں میں کیا

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اسے دن بھر تتلیاں ستاتی ہیں

رات میں جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

موضوع : Uncategorized


تبصرے (2)


آمنہ بتول۔۔ اسے جانے کی جلدی تھی

Saturday 24 October 2009

 آمنہ بتول۔۔۔ آج اسلامک یونیورسٹی کی ایک اور طلباء اپنے زخموں سے ہارتے ہوئے خاموشیوں کے سفر پر روانہ۔

والدین کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی ایک بہن۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ کوئی شنا سائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ کوئی قربت۔۔۔

پر بہت دیر سے اس خبر نے باندھ رکھا ہے کہ کوشش کہ باوجود زندگی کی بے ثباتی پوری شدت سے محسوس ہورہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا جذبہ ہوتا ہے جو انسان کو اتنا سفاک کردیتا ہے

کہ وہ اپنے جیسے دھڑکتے دلوں بہت آسانی سے خاموش کردیتا ہے ۔۔۔۔۔ ہستی مسکراتی آنکھوں سے خواب چھین لیتا ہے؟ اکتوبر کی صبح آنکھوں میں ڈھیروں خواب لئے ۔۔۔ کچھ سیکھنے کے عزم میں گھر سے نکلتے ان قدموں نے کیا کبھی سوچا ہوگا کہ واپسی کا سفر اتنی خاموشی سے ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کے احاطے میں اپنی دوستوں کے ہمراہ کیفے ٹیریا کی طرف بڑھتے ہوئے اسے کیا خبر تھی کہ وہ اپنی موت سے ملنے جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)


کلیات خلیل جبران….فلسفہء دوستی

Friday 14 August 2009

فلسفہء دوستی

تمہارا دوست وہ ہے جو تمہاری احتیاج پوری کرے

وہ تمہارا وہ کھیت ہے جس میں تم محبت کی تخم پوشی کرتے ہو

اسی کھیتی کو تم تشکر اوراطمینان کے ساتھ کاٹتے ہو

اور جب تمہارا دوست اپنے دل کی کوئی بات تم سے کہتا ہے – تو تم کو نہ اپنے دل کی “نہیں“ متردو کرتی ہے – نہ تم اس کو اپنی “ہاں“ سے محروم رکھتے ہو

اور جب وہ خاموش ہوتا ہے تب بھی تمہارا دل اس کے دل کی گفتگو سننے سے عاری نہیں ہوتا

اس لئے کہ بغیر الفاظ کی مدد کے ، دوستی کے افکار ، تمام خیالات ، “تمام خواہشات، تمام توقعات، تمام ارادے پیدا ہوتے ہیں
ان سے دوستوں کے لئے ایک مسرت حاصل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ بے طلب
اور دوستی کا کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ، سوائے اس کے کہ تم دوست کے ساتھ ایک مشترک روحانی گہرائی میں شریک ہوجاؤ

اس لئے کہ محبت نہیں چاہتی کہ اس کا بھید واضح ہو جاوے

اور جو کچھ تمہارے اندر بہتر اور اعلی تر ہے وہی دوست کو دو

اگر وہ چاہتا ہے تمہارے “مد“ کے “ جزو“ بھی دیکھے

تو اس کو اپنے دریا کی طغیانی بھی دیکھا دو -”

اس لئے کہ وہ تمہارا دوست ہی کیا ہے جسے تم صرف اس لئے ڈھونڈتے رہو کہ اس کی صحبت میں تم اپنا خالی وقت گزار سکو – وہ ساعتیں جو تم پر گراں ہیں-”

بلکہ دوست کو تو اس وقت ڈھونڈو جب تم بیداری عمل کا وقت گزارنا چاہو

اس لئے کہ دوست کا کام یہ ہے کہ وہ تمہارے تقاضوں اور تمہاری ضرورتوں کو پورا کرے
نہ یہ کہ تمہارے اوقات کے خالی کاسہ کو بھرا کرے !”

اور دوستی کی حلاوت میں اپنے تبسم کو ملادو ، اور اپنی مسرتوں کو مشترک کرلو

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)


ناصر کاظمی..ایک ہی کمی ہے تو

Thursday 9 July 2009

ناصر کاظمی کا یہ کلام ہمیشہ سے بہت پسندیدہ ہے اور نصرت فتح علی کی آواز تو اسے اور بھی خوبصورت کرتی ہے
غم ہے یا خوشی ہے

تو میری زندگی ہے

آفتوں کے دور میں  
چین کی گھڑی ہے تو

میری رات کا چراغ

میری نیند بھی ہے تو

میں خزاں کی شام ہوں

رت بہار کی ہے تو

دوستوں کے درمیاں

وجہ دوستی ہے تو

میری ساری عمر میں

ایک ہی کمی ہے تو

 

میں تو وہ نہیں رہا

ہاں مگر وہی ہے تو
  ناصر اس دیار میں  

کتنا اجنبی ہے تو
 

 

ناصر کاظمی

 

 

 

 

موضوع : Uncategorized


تبصرے (12)


“نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ

Tuesday 30 June 2009

 نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ

 نکلے تری تلاش میں” مستنصر کی ایک ایسی کاوش جو نا صرف سفر ناموں کی طوالت اور خشکی کے عام تاثر کو زائل کرتی ہے بلکہ آپ کو ایک نئ دنیا سے متعارف کراتی ہے ۔ ۔ نئے جہاں کو دریافت کرنے کا فسوں بیدار سا ہونے لگتا ہے -سر زمین ایران کا حسن ہو یا سنہری دھوپ میں چمکتے ترک گاؤں یا وینس کی سحر انگیزی سب سامنے سے لگتے ہیں
  
 نکلے تیری تلاش سے اقتباس

 بازنطائن -قسطنطینہ – استنبول

وینس کی خوبصورتی کا انحصار سمنرد پر ہے پر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لئے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے – صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد- نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار- ترک سلطانوں کا محل سرا- شاخ زریں پر پل – الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لمبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑھے ہوں

 -”کوپن ہیگن کی دیوالی 
 
سیکینڈے نیویا” یعنی آنمارک، سویڈن اور ناروے کے باشندوں کے لئے کوپن ہیگن اسی حیثیت کا حامل ہے جو پیرس کی باقی یورپ کی نظروں میں ہے – جہاں پیرس ایک حسین شہزادی کی طرح ہر دور میں اپنےحسن پر نازاں ہے وہاں کوپن ہیگن اس نوجوان دیہاتی دوشیزہ کی مانند ہے جو کسی طرح بھی شہزادی سے کم حسین نہیں مگر اس میں تکبر نام کو نہیں – یہاں کسی سے راستہ پوچھ بیٹھیے تو خود چھوڑنے چلے جائیں گے بلکہ کھانے پر بلا لیں گے- ، ادھر یہی بات کیجیے تو کھانے کو آئیں گے-1167 میں بشپ اسبالون نے جس کا مجسمہ ٹاؤن ہال کے سامنے ایستادہ ہے اس شہر کا سنگ بنیاد رکھا اور یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا- یہ چھوٹی سی بندرگاہ جلد ہی ایک وسیع تجارتی مرکز کی صورت اختیار کرگئی اور اسی مناسبت سے سے کوپن ہیگن یعنی تاجروں کی بندرگاہ کہلائی
 
 
 سٹاک ہوم کی نیلی شفق

  اس خطے میں گرمیوں میں کسی بھی وقت تاریکی نہیں ہوپاتی- رات کو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دینے والی تاریکی کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں ہے ، وہ سویڈن آکر مہمل ہوجاتا ہے – گرمیوں میں گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے تو صبح دو بجے طلوع ہو جاتا ہے -یہاں تک کے صبح تین بجے دھوپ ہمارے ہاں کی تیز دوپہروں کی مانند چمک رہی ہوتی ہیں – طلوع و غروب کے درمیانی وقفے میں بھی زمین اور فلک کے درمیاں روشنی کی مدھم چادر بچھی رہتی ہے- اہل سویڈن اس روشنی کو نیلی شفق کا نام دیتے ہیں

 ایک خوبصورت نظم – ایمسٹر ڈیم
  
 ایمسٹر ڈیم” ایک خوبصورت نظم ہے جو دھیرے دھیرے دل میں اترتی رہتی ہے ایک ایسے ملک میں جو بظاہر تو بے جان اور بے حد سپاٹ ہے ۔ ایمسٹر ڈیم ایک دھڑکتے ہوئے حساس دل کی مانند ہے – ایک ایسا دل جس میں سینکڑوں نہریں حیات آفریں شریانوں کی مانند پھیلی ہوئی ہیں ایک جدید شہر ہونے کے باوجود ایمسٹر ڈیم میں دہیاتی اطوار کی جھلک موجود ہے – منٹ ٹاور کے پاس کشتیوں میں سجے پھولوں کا بازار ، سکوں اور خاموشی ، تنگ گلیوں میں سے آتی ہوئی لوک دھنوں کی سحر انگیزی موسیقی ، کبھی کبھار شیشے کی چھت والی کشتی اس خوبصورتی میں تیر جاتی تو پانی میں ہلکے تلاطم کی وجہ سے نہر میں تیرتی ہوئی لاتعداد بطخیں اپنے پر پھڑپھڑا کر کمان نما پلوں کی نیچے گھس جاتیں- ہر جگہ بہتا ہوا پانی نیلگوں آسمان ،لائم زرد کلیاں ۔ ایلم کے خوبصورت پتے ، نہروں پر لیٹے ہوئے پلوں کے بل کھاتے جنگلوں سے نیچے جھانکیں تو اپنا عکس جھلکنے لگتا ہے
  

موضوع : Uncategorized


تبصرے (7)


فلسفہ محبت“”فلسفہ جبران”کلیات خلیل جبران“

Friday 12 June 2009

“فلسفہ محبت“محبت کیا ہے

 

 “ جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے

جاؤ“
‘ باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں“
‘اور جب وہ تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو برضا لپٹ جاؤ“

“ اور جب وہ تم سے بات کرے تو اس کا یقین کرو“

“خواہ اس کی آواز تمہارے تمام مرغوب خوابوں کو منتشر کردے ۔ ۔ ۔ جس طرح نسیم شمالی باغیچہ کو ویران کر ڈالتی ہے“

یاد رکھو کہ محبت تمہارے سر پر تاج رکھتی ہےتو ساتھ ہی تمہیں سولی پر بھی چڑھا دیتی ہے-

جس طرح وہ تمہاری روح کے سبزہ زار کو شاداب رکھتی ہے اس طرح وقتا ً فوقتا ً اس سبزہ زار کی بہت سی بے کار اور خودرو گھاسکو تراشتی اور چھانٹتی بھی رہتی ہے-

“ محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے !“

“ اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس جوہر لطیف کے جو اسی کا ہے“

“ محبت قبضہ نہیں کرتی ، نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے“ اورجب تم محبت کرو تو اس سے یہ نہ کہنا کہ

“وہ میرے دل میں ہے“
بلکہ کہو تو یہ کہ کہ

“میں اس کے دل میں ہوں“

“اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ تم محبت کو راستہ بتا سکتے ہو“

وہ تم کو راستہ بتاتی ہے، بشرطیکہ تم کو اس قابل پائے“
پھر اگر تم محبت کرو، اور خوائشیں اور تمنائیں بھی رکھو تو گھل کر پانی ہوجاؤ۔ ۔ ۔ ۔ بہتے چشمے کی طرح “جو شب کی ظلمت کو اپنا نغمہ سنا تا ہے“

پھر اس درد کو پہچانو جو اس چشمے کے اندر سے ذوق پیدا کرتا ہے“

“اور محبت کے متعلق جو کچھ علم تم کو حاصل ہوجائے اسی سے مجروح ہوجاؤ“

طلوع آفتاب کے وقت اس طرح بیدار ہوجاؤ کہ گویا “دل ایک پرند ہے “

“جو اپنے پر کھولے ہوئے آمادہ پرواز ہے“

اورشکر کرو کہ محبت کرنے کا ایک اور دن نصیب ہوا ہے“
دوپیر کو جب تم آرام کرو تو اس آسائش کی ساعت میں بھی محبت کے کیف بے نہایت سے لطف اندوز ہو“

دن بھر کی محبت کے بعد شام کو گھر آؤ ۔ ۔ ۔ محبت کے احسان مند اور شکر گزار ہوکر-“

“پھر شب کو اس طرح اپنی آنکھیں بند کرو کہ دل محبوب کے لئے دعاؤں سے معمور ہو“

اور تہارے لبوں پر مدح توصیف کی ایک راگنی رقص کر رہی ہو“

 

موضوع : Uncategorized


تبصرے (11)


خودکلامی

Thursday 30 April 2009

 

 خودکلامی

بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے

پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خوائش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔

بہت بار بہت سے موضوعات پر لکھنے کی خوائش تو رہتی ہے پر آج دل کی خوائش ہے کہ ساری مصروفیات کو ترک کرکے صرف باتیں کی جائیں ۔ ۔ عجیب سی یاسیت ہے جو بہت دنوں سے ساتھ محسوس ہوتی ہے ہر ایک شے ٹھہری ہوئی ،جامد سی محسوس ہوتی ہے یوں لگتا ہے جیسے بہت دن سے ہوگئے ہوں خود کلام ہوئے

مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خوائش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے

موضوع : Uncategorized


تبصرے (7)


پروین شاکر کی یاد میں

Saturday 27 December 2008

  پروین شاکر کی یاد میں

رواں صدی میں اردوادب کی خواتین شعرا کا ذکر پروین شاکر کے تذکرے کے بناء نامکمل سا لگتا ہے

خوشبو، صد برگ ، خود کلامی، انکار جیسی کتابوں کی تخلیق کار کو آج ہم سے بچھڑے چودہ برس بیت گئے ۔

پروین شاکر- تعارف

 پروین شاکر 24 نومبر ،1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں -انگریزی ادب، لسانیات اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا-سول سروسزز اختیار کرنے سے پہلے نو سال تک تدریسی شعبے سے وابستہ رہیں- ١٩٨٦ میں سیکیٹری دوئم کی حیثیت سے سی بی آر اسلام آباد میں تقرر ہواپروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا
 

بعض نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ـانکی کتابوں کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں ـ

 خوشبو-١٩٧٦صد برگ ١٩٨٠خود کلامی ١٩٨٠انکار 1٩٩٠

 ماہِ تمام ١٩٩٤

 

 ”خوشبو

ابر بہار نے

 پھول کا چہرہ

  اپنے بنفشی ہاتھ میں لے کر

ایسے چوما

پھول کے سارے دکھ 
   خوشبو بن کر بہہ گئے

پھول، خوشبو، ہوا، بادل، رنگ، تتلیاں ، موسم، پروین کی شاعری کے استعارے ہی نہیں بلکہ نوخیز اور نوعمر جذبوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں

 
 کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
 اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
 کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
  بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لو ٹا تو میرے پاس آیا
 بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی میں
صنف نازک سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پروین کی شاعری میں نرم روی، نرم گفتاری ، محبتوں کے لئے خلوص، رشتوں کے لئے قربانی اور ایثار کے رنگ نمایا ں ہیں جو کے مشرق کی خواتین کا مزاج ہیں

  • کمال ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

  • میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی۔۔۔

  •   اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
  تھا کسی وقت میں اپنا لوگو ۔ ۔
بجا طور پر پروین صنف نازک کے احساسات اور جذبات کی بہترین عکاسی پورے وقار کے ساتھ کرتی ہیں
 کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کر تنہائی میں
 میرے چہرے پر تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی 
ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا
 
  اپنی زندگی میں ماہ تمام رقم کرتے ہوئے پروین نے شاید کچھ ایسا ہی سوچا تھا

 موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں

  کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے

 
عمر کا بھروسہ کیا، پل کا سات ہوجاے
اک بار اکیلے میں ، اس سے بات ہوجاے
دل کی گنگ سرشاری اس کوجیت لے لیکن
عرض حال کرنے میں احتیاط ہوجاے
ایسا کیوں کے جانے سے صرف ایک انسان کے
ساری ذندگانی ہی بے ثبات ہو جاے
 

موضوع : Uncategorized


تبصرے (17)




بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔