امید

“نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ

 نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ

 نکلے تری تلاش میں” مستنصر کی ایک ایسی کاوش جو نا صرف سفر ناموں کی طوالت اور خشکی کے عام تاثر کو زائل کرتی ہے بلکہ آپ کو ایک نئ دنیا سے متعارف کراتی ہے ۔ ۔ نئے جہاں کو دریافت کرنے کا فسوں بیدار سا ہونے لگتا ہے -سر زمین ایران کا حسن ہو یا سنہری دھوپ میں چمکتے ترک گاؤں یا وینس کی سحر انگیزی سب سامنے سے لگتے ہیں
  
 نکلے تیری تلاش سے اقتباس

 بازنطائن -قسطنطینہ – استنبول

وینس کی خوبصورتی کا انحصار سمنرد پر ہے پر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لئے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے – صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد- نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار- ترک سلطانوں کا محل سرا- شاخ زریں پر پل – الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لمبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑھے ہوں

 -”کوپن ہیگن کی دیوالی 
 
سیکینڈے نیویا” یعنی آنمارک، سویڈن اور ناروے کے باشندوں کے لئے کوپن ہیگن اسی حیثیت کا حامل ہے جو پیرس کی باقی یورپ کی نظروں میں ہے – جہاں پیرس ایک حسین شہزادی کی طرح ہر دور میں اپنےحسن پر نازاں ہے وہاں کوپن ہیگن اس نوجوان دیہاتی دوشیزہ کی مانند ہے جو کسی طرح بھی شہزادی سے کم حسین نہیں مگر اس میں تکبر نام کو نہیں – یہاں کسی سے راستہ پوچھ بیٹھیے تو خود چھوڑنے چلے جائیں گے بلکہ کھانے پر بلا لیں گے- ، ادھر یہی بات کیجیے تو کھانے کو آئیں گے-1167 میں بشپ اسبالون نے جس کا مجسمہ ٹاؤن ہال کے سامنے ایستادہ ہے اس شہر کا سنگ بنیاد رکھا اور یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا- یہ چھوٹی سی بندرگاہ جلد ہی ایک وسیع تجارتی مرکز کی صورت اختیار کرگئی اور اسی مناسبت سے سے کوپن ہیگن یعنی تاجروں کی بندرگاہ کہلائی
 
 
 سٹاک ہوم کی نیلی شفق

  اس خطے میں گرمیوں میں کسی بھی وقت تاریکی نہیں ہوپاتی- رات کو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دینے والی تاریکی کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں ہے ، وہ سویڈن آکر مہمل ہوجاتا ہے – گرمیوں میں گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے تو صبح دو بجے طلوع ہو جاتا ہے -یہاں تک کے صبح تین بجے دھوپ ہمارے ہاں کی تیز دوپہروں کی مانند چمک رہی ہوتی ہیں – طلوع و غروب کے درمیانی وقفے میں بھی زمین اور فلک کے درمیاں روشنی کی مدھم چادر بچھی رہتی ہے- اہل سویڈن اس روشنی کو نیلی شفق کا نام دیتے ہیں

 ایک خوبصورت نظم – ایمسٹر ڈیم
  
 ایمسٹر ڈیم” ایک خوبصورت نظم ہے جو دھیرے دھیرے دل میں اترتی رہتی ہے ایک ایسے ملک میں جو بظاہر تو بے جان اور بے حد سپاٹ ہے ۔ ایمسٹر ڈیم ایک دھڑکتے ہوئے حساس دل کی مانند ہے – ایک ایسا دل جس میں سینکڑوں نہریں حیات آفریں شریانوں کی مانند پھیلی ہوئی ہیں ایک جدید شہر ہونے کے باوجود ایمسٹر ڈیم میں دہیاتی اطوار کی جھلک موجود ہے – منٹ ٹاور کے پاس کشتیوں میں سجے پھولوں کا بازار ، سکوں اور خاموشی ، تنگ گلیوں میں سے آتی ہوئی لوک دھنوں کی سحر انگیزی موسیقی ، کبھی کبھار شیشے کی چھت والی کشتی اس خوبصورتی میں تیر جاتی تو پانی میں ہلکے تلاطم کی وجہ سے نہر میں تیرتی ہوئی لاتعداد بطخیں اپنے پر پھڑپھڑا کر کمان نما پلوں کی نیچے گھس جاتیں- ہر جگہ بہتا ہوا پانی نیلگوں آسمان ،لائم زرد کلیاں ۔ ایلم کے خوبصورت پتے ، نہروں پر لیٹے ہوئے پلوں کے بل کھاتے جنگلوں سے نیچے جھانکیں تو اپنا عکس جھلکنے لگتا ہے
  

فلسفہ محبت“”فلسفہ جبران”کلیات خلیل جبران“

“فلسفہ محبت“محبت کیا ہے

 

 “ جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے

جاؤ“
‘ باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں“
‘اور جب وہ تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو برضا لپٹ جاؤ“

“ اور جب وہ تم سے بات کرے تو اس کا یقین کرو“

“خواہ اس کی آواز تمہارے تمام مرغوب خوابوں کو منتشر کردے ۔ ۔ ۔ جس طرح نسیم شمالی باغیچہ کو ویران کر ڈالتی ہے“

یاد رکھو کہ محبت تمہارے سر پر تاج رکھتی ہےتو ساتھ ہی تمہیں سولی پر بھی چڑھا دیتی ہے-

جس طرح وہ تمہاری روح کے سبزہ زار کو شاداب رکھتی ہے اس طرح وقتا ً فوقتا ً اس سبزہ زار کی بہت سی بے کار اور خودرو گھاسکو تراشتی اور چھانٹتی بھی رہتی ہے-

“ محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے !“

“ اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس جوہر لطیف کے جو اسی کا ہے“

“ محبت قبضہ نہیں کرتی ، نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے“ اورجب تم محبت کرو تو اس سے یہ نہ کہنا کہ

“وہ میرے دل میں ہے“
بلکہ کہو تو یہ کہ کہ

“میں اس کے دل میں ہوں“

“اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ تم محبت کو راستہ بتا سکتے ہو“

وہ تم کو راستہ بتاتی ہے، بشرطیکہ تم کو اس قابل پائے“
پھر اگر تم محبت کرو، اور خوائشیں اور تمنائیں بھی رکھو تو گھل کر پانی ہوجاؤ۔ ۔ ۔ ۔ بہتے چشمے کی طرح “جو شب کی ظلمت کو اپنا نغمہ سنا تا ہے“

پھر اس درد کو پہچانو جو اس چشمے کے اندر سے ذوق پیدا کرتا ہے“

“اور محبت کے متعلق جو کچھ علم تم کو حاصل ہوجائے اسی سے مجروح ہوجاؤ“

طلوع آفتاب کے وقت اس طرح بیدار ہوجاؤ کہ گویا “دل ایک پرند ہے “

“جو اپنے پر کھولے ہوئے آمادہ پرواز ہے“

اورشکر کرو کہ محبت کرنے کا ایک اور دن نصیب ہوا ہے“
دوپیر کو جب تم آرام کرو تو اس آسائش کی ساعت میں بھی محبت کے کیف بے نہایت سے لطف اندوز ہو“

دن بھر کی محبت کے بعد شام کو گھر آؤ ۔ ۔ ۔ محبت کے احسان مند اور شکر گزار ہوکر-“

“پھر شب کو اس طرح اپنی آنکھیں بند کرو کہ دل محبوب کے لئے دعاؤں سے معمور ہو“

اور تہارے لبوں پر مدح توصیف کی ایک راگنی رقص کر رہی ہو“

 

خودکلامی

 

 خودکلامی

بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے

پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خوائش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔

بہت بار بہت سے موضوعات پر لکھنے کی خوائش تو رہتی ہے پر آج دل کی خوائش ہے کہ ساری مصروفیات کو ترک کرکے صرف باتیں کی جائیں ۔ ۔ عجیب سی یاسیت ہے جو بہت دنوں سے ساتھ محسوس ہوتی ہے ہر ایک شے ٹھہری ہوئی ،جامد سی محسوس ہوتی ہے یوں لگتا ہے جیسے بہت دن سے ہوگئے ہوں خود کلام ہوئے

مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خوائش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے

پروین شاکر کی یاد میں

  پروین شاکر کی یاد میں

رواں صدی میں اردوادب کی خواتین شعرا کا ذکر پروین شاکر کے تذکرے کے بناء نامکمل سا لگتا ہے

خوشبو، صد برگ ، خود کلامی، انکار جیسی کتابوں کی تخلیق کار کو آج ہم سے بچھڑے چودہ برس بیت گئے ۔

پروین شاکر- تعارف

 پروین شاکر 24 نومبر ،1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں -انگریزی ادب، لسانیات اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا-سول سروسزز اختیار کرنے سے پہلے نو سال تک تدریسی شعبے سے وابستہ رہیں- ١٩٨٦ میں سیکیٹری دوئم کی حیثیت سے سی بی آر اسلام آباد میں تقرر ہواپروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا
 

بعض نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ـانکی کتابوں کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں ـ

 خوشبو-١٩٧٦صد برگ ١٩٨٠خود کلامی ١٩٨٠انکار 1٩٩٠

 ماہِ تمام ١٩٩٤

 

 ”خوشبو

ابر بہار نے

 پھول کا چہرہ

  اپنے بنفشی ہاتھ میں لے کر

ایسے چوما

پھول کے سارے دکھ 
   خوشبو بن کر بہہ گئے

پھول، خوشبو، ہوا، بادل، رنگ، تتلیاں ، موسم، پروین کی شاعری کے استعارے ہی نہیں بلکہ نوخیز اور نوعمر جذبوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں

 
 کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
 اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
 کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
  بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لو ٹا تو میرے پاس آیا
 بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی میں
صنف نازک سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پروین کی شاعری میں نرم روی، نرم گفتاری ، محبتوں کے لئے خلوص، رشتوں کے لئے قربانی اور ایثار کے رنگ نمایا ں ہیں جو کے مشرق کی خواتین کا مزاج ہیں

  • کمال ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

  • میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی۔۔۔

  •   اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
  تھا کسی وقت میں اپنا لوگو ۔ ۔
بجا طور پر پروین صنف نازک کے احساسات اور جذبات کی بہترین عکاسی پورے وقار کے ساتھ کرتی ہیں
 کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کر تنہائی میں
 میرے چہرے پر تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی 
ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا
 
  اپنی زندگی میں ماہ تمام رقم کرتے ہوئے پروین نے شاید کچھ ایسا ہی سوچا تھا

 موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں

  کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے

 
عمر کا بھروسہ کیا، پل کا سات ہوجاے
اک بار اکیلے میں ، اس سے بات ہوجاے
دل کی گنگ سرشاری اس کوجیت لے لیکن
عرض حال کرنے میں احتیاط ہوجاے
ایسا کیوں کے جانے سے صرف ایک انسان کے
ساری ذندگانی ہی بے ثبات ہو جاے
 

“ فلسفہ ء دعا“(”کلیات خلیل جبران“)

فلسفہ ء دعا

تم اپنی مصیبت اور احتیاج کی حالت میں دعا کرتے ہوکاش تم کمال مسرت اور انتہائی خوشحالی میں بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا تےاس وقت جب تمہارے دل میں مسرتوں کا ہجوم ہوتا تم اس چھوٹے سے مہمان کے لئے بھی کوئی جگہ نکال لیتےدعا ہے کیا ؟؟؟؟
———–
سوائے اس کے کہ وہ ایک کیفیت ہے جب انسان اپنے آپ کو فضائے بسیط میں پھیلا دیتا ہےاور تمہارے پاس اس کے سوائے کوئی چارہ نہیں کہ اس وقت جب تمہاری روح تمکو دعا کی طرف بلائے تو تم اپنے بہتے ہوئے آنسو لے کر اس کی طرف جاؤتو پھر کیا ہی اچھا ہو تمہاری روح تمہیں بار بار اکسائے اور بڑھائےاور تم بار بار اس منزل کی طرف جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے آنسو اور اپنی آہیں لے کر-”اور بار بار اس سفر سے ہستے اور مسکراتے واپس آؤجب تم دعا میں مشغول ہوتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔گم ہوجاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ تو یاد رکھو کہ تم فضا میں بلند ہو کر ان لوگوں کی روحوں سے متصل ہوجاتے ہو جو عین اس لمحے میں دست بدعا ہوں اور جن سے سوائے اس عالم کے تم پہلے کبھی نہ مل سکے ہوپس دعا کے مندر میں تم اقدام ہائے اس کیف وصال اور اتحاد شیریں کے کسی اورغرض سے نہ رکھا جائےاس لئے کہ تم اگر اس مندر میں صرف مانگنےاور لینے کے لئے جاتے ہوتو اغلب ہے کہ تمہیں کچھ نہ ملے گااور اگر اس مندر میں محض عجز کا ،مظاہرہ کرنے کے لئے جاتے ہو تو تمہیں شرما کر واپس آنا ہوگا -”اور اگر اس مندر میں تم دوسروں کی سفارش کرنے کے لئے جاتے ہو تو تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تمہاری سنی جائےپس تمہارے لئے کافی ہے یہ کہ تم اس نامعلوم مندر میں نامعلوم طریقہ پر جاؤ-”

میں تمہیں زبان کے لفظوں سے مانگنے کا کوئی طریقہ نہیں بتا سکتا مجھے نہیں معلوم-”اوراگر تم رات کی تاریکی میں سننے کی کوشش کرو تو تم سمندر کی موجوں اور صحرا کو یہ کہتے سنو گے -”اے معبود ہمارے! ہم تیرا ہی عکس حقیقت ہیں- -تیری ہی رضا ہمارے اندر ہے ہے جو حکم دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔تیرا ہی جذبہ طلب ہمارے اندرہے جو ہمیں “طلب سکھاتا ہےتیرا ہی تقاضہ وہ ہے جو ہماری راتوں کو۔ ۔ ۔ ۔جو تیری راتیں ہیں ۔ ۔ ۔ دن بناتا ہے۔ ۔ ۔ وہ دن جو تیرے ہی دن ہیں۔ ۔ ۔ ۔ہم تجھ سے کچھ نہیں مانگ سکتے – اسلئے تو ہماری ضرورتوں سے ان کے پیدا ہونے سے پہلے واقف ہوتا ہے!تو ہماری ضرورت ہے- تجھ ہی سے ہماری احتیاج ہے“-
——————————————————-
اور جب تو ہم کو اپنے وجود سے ایک حصہ دے ڈالتا ہے تو سب کچھ دے ڈالتا ہے جوہم کو ملنا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم کیا مانگیں !

“فلسفہ جبران(”کلیات خلیل جبران“

محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے

                                               

  محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے               

 جس میں تم لکھو

کہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے، کون سی خوشبو لگانی ہے

کسے کیا بات کہنی، کون سی کس سے چھپانی ہے

کہاں کِس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہے

مل کر پوچھنا ہے

کیا تمہیں مجھ سے محبّت ہے؟

یہ فرسودہ سا جملہ ہے

مگر پھر بھی یہی جملہ

دریچوں، آنگنوں، سڑکوں، گلی کوچوں میں چوباروں میں

چوباروں کی ٹوٹی سیڑھیوں میں

ہر جگہ کوئی کسی سے کہہ رہا ہے

کیا تمہیں مجھ سے محبّت ہے؟

محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے

جس میں تم لکھو

تمہیں کس وقت، کس سے کِس جگہ ملنا ہے کِس کو چھوڑ جانا ہے

کہاں پر کس طرح کی گفتگو کرنی ہے یا خاموش رہنا

کسی کے ساتھ کتنی دور تک جانا ہے اور کب لوٹ آنا ہے

کہاں آنکھیں ملانا ہے کہاں پلکیں جھکانا ہے

یا یہ لکھّو کہ اب کی بار جب وہ ملنے آئے گا

تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر

دھنک چہرے پہ روشن جگمگاتی رقص کرتی اس کی آنکھوں میں اتر جائیں

گے

اور پھر گلشن و صحرا کے پیچوں پیچ دل کی سلطنت میں خاک اڑائیں گے

بہت ممکن ہے وہ عجلت میں آئے

اور تم اس کا ہاتھ، ہاتھوں میں نہ لے پاؤ

نہ آنکھوں ہی میں جھانکو اور نہ دل کی سلطنت کو فتح کر پاؤ

جہاں پر گفتگو کرنی ہے تم خاموش ہو جاؤ

جہاں خاموش رہنا ہے وہاں تم بولتے جاؤ

نئے کپڑے پہن کر گھر سے نکلو، میلے ہو جاؤ

کوئی خوشبو لگانے کا ارادہ ہو تو شیشی ہاتھ سے گر جائے

تم ویران ہو جاؤ

سفر کرنے سے پہلے بے سروسامان ہو جاؤ

محبت ڈائری ہرگز نہیں ھے آبِ جو ھے

جو دلوں کے درمیاں بہتی ھے خوشبو ھے

کبھی پلکوں پہ لہرائے تو آنکھیں ہنسنے لگتی ہیں

جو آنکھوں میں اتر جائے تو منظر اور پس ِمنطر میں شمعیں جلنے لگتی

ہیں

کسی بھی رنگ کو چھو لے

وہی دل کو گوارا ہے

کسی مٹی میں گھل جائے

وہی مٹی ستارہ ہے

محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے – سلیم کوثر

Protected: ڈائری

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Enter your password to view comments

ٹیگ 2

اتنے ماہ بعد اب کھیل کے قوانین تو رہنے دیتے ہیں پر فرحت کی یاد دہانی پر جواب لکھ رہی ہوں

1۔ ونڈوز یا لینکس؟

ونڈوز۔ لینکس کے بارے میں معلومات بہت ہی کم ہیں

 

2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟

دونوں کا بہت شوق نہیں۔۔۔۔۔۔

3۔ پیپسی یا کوک؟

7up

4۔ سیب یا انگور؟

پائن ایپل

5۔ کراچی یا لاہور؟

شہر کراچی۔۔۔۔۔۔اس جیسا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا

۔ پاپ میوزک یا راک؟6

all sentimental songs and gazals

7۔ چائے یا کافی؟

چائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کسی اپنے کا ساتھ ہو تو ڈھیر ساری بھی کم لگتی ہے

8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟

دونوں نہیں

9۔ نہاری یا حلیم؟

دونوں ۔۔۔۔۔ اور ڈھیر ساری کہ بار بار کھائی جائے

10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟

مشکل سوال ہے

۔11۔ فورمز یا بلاگ؟

فورم ۔

12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟

نواز شریف پھر بھی بہتر ہے

13۔ دوست یا کزنز؟

دوست

14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟

کرکٹ( دیکھنے میں بھی اور کھیلنے میں بھی)

15۔ پرسکون یا پریشان؟

پرسکوں ہونے کی کوشش

ایک ناول ” شاید شمع جلتی رہے”

  

” شاید شمع جلتی رہے” 

   بہت دنوں بعد کسی تحریر نے اپنی گرفت میں یوں لیا کہ یکدم اس سے کچھ لکھنے کی خوائش جاگی      

      ‘تبدیلی کے لئے ایک لمحہ بھی بہت ہوتاہے”  

     “جو چیز آپ کو دکھ یا تکلیف دے اس کی عادت کیسے پڑ سکتی ہے؟؟ اس کی عادت پڑنی بھی نہیں چاہیے اس کا تو یہ مطلب ہے کہ آپ نے ہار مان لی۔۔اپنے آپ سے ہار مان لی- اپنے حالات سے ہار مان لی اور جو لوگ ہار مان لیتے ہیں ، پھر وہ کہیں نہیں ہوتے” 

  “اصل میں جس کو ہم اپنی محرومی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہی ہماری طاقت ہوتی ہے اللہ تعالی ایک چیز لیتا ہے تو دوسری کوئی چیز ضرور عطا کرتا ہے “ 

       زندگی کہاں اسان ہوتی ہے؟؟’  یہ تو ہم پر منحصر ہو تا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو کتنا آسان بناتے ہیں؟ 

  ‘ہم سب اس بات کو مانتے  ہیں کہ جو اوپر بیٹھا ہےسب کچھ اس کے ہاتھ میں اور وسیلہ کوئی چیز بھی ہو سکتی ہے ‘  

    “ہم کتنا کچھ سوچتے ہیں – طرح طرح کی راہیں تلاش کرتے ہیں -لیکن گردشوں کے اسیر  رہتے ہیں اور گردشیں ہی لکھی ہیں تو کس نے کہا ہے کہ اتنا سوچو کہ بند مٹھی کی آگ  دامن تک جاپہنچے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کے محبت پر اتنا بوجھ نہ ڈالو  کہ وہ ٹوٹ  جائے گی تو جو ٹوٹ جائے گی وہ محبت  ہی نہیں ہوگی “ 

   “ایک زندگی میں انسان کتنی خوائشات کی تکمیل چاہتا ہے” 

   ” اور ایک زندگی میں انسان کو سب  ہی کچھ دیکھنا ہوتا ہے   بس اللہ پر یقین ہونا چاہیے اندر بہت گہرائیوں سے۔۔جہاں تک کسی کی نظر نہیں جاتی”    “زندگی تو ہر ایک کے لئے نامتعبر ہے -لیکن ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اسی شیشے کی زندگی کے لئے کرتے ہیں -شیشہ اگر ہاتھ سے  گر گیا تو سے ٹوٹ  گیا اور شیشہ تو کسی کے ہاتھ بھی گر سکتا ہے ، چاہے وہ تم ہو،یا میں کسے خبر ہے -بس ایک  امید  ہے وہ ضرور ہونی چاہئے -زندگی تر غیب دے یتی ہے -چیرے زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں “

   محبت  واقعی متعبر ہے، مجعزہ ہے  ، بس ایک امید ہونی چاہئے کہ شمع جلتی رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    

ایک اداس نظم -پروین شاکر

پروین شاکر کی کتاب “انکار” سے نظم ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے ۔ ۔ ۔ 

 

ایک اداس نظم 

یہ حسین شام اپنی 

ابھی جس میں گھل رہی ہے 

تیرے پیرہن کی خوشبو 

ابھی جس میں کھل رہے ہیں 

میرے خواب کے شگوفے 

ذرا دیر کا ہے منظر! 

ذرا دیر میں افق پہ 

کھلے گا کوئی ستارہ 

تری سمت دیکھ کر وہ 

کرے گا کوئی اشارہ 

ترے دل کو آئے گا پھر 

کسی یاد کا بلاوا 

کوئی قصہ جدائی 

کوئی کار نا مکمل 

کوئی خواب نا شگفتہ 

کوئی بات کہنے والی 

کسی اور آدمی سے! 

ہمیں چاہیے تھا ملنا 

کسی عہد مہربا ں میں 

کسی خواب کے یقین میں 

کسی اور آسماں میں 

کسی اور سر زمیں میں! 

(پروین شاکر- انکار )