Sunday 30 December 2007
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!

تم نے چاہا تھا کہ پھولوں سے سجے ارض وطن
اب وہی پھول تمھیں نزر کئے دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ چھوٹی سی بچی جس نے المرتضی لاڑکانہ میں اپنے باپ کے ہاتھوں بندوق سے فائر کرکے درخت پر سے ایک طوطے کو مارنے پر دو دن تک کھانا نہیں کھایا تھا وہ سفاکانہ انداذ میں قتل ہوگئی۔
سیاسی نظریات میں اختلاف اپنی جگہ پر قوم کی بیٹی کے اس بے رحمانہ انداذ میں جان کے ضیاع کا دکھ ہر پاکستانی کو ہے اور ہر بیٹی اس بے رحمانہ قتل کی مذمت کرتی ہے-
آللہ تعالی سے دعا ہے ان کے دانستہ اور نہ دانستہ تمام گناہوں کو معاف فرمائے-
موضوع : Uncategorized
اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے
Friday 28 December 2007
”آخری چند دن دسمبر کے”
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خوائشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں
ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے
ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے
نام میرا بھی
کٹ گیا ہوگا
(امجد اسلام امجد)
موضوع : Uncategorized
اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے