امید

” لا حاصل ”

Monday 21 January 2008

 

  

      ” لا حاصل ”

 

 Trees with Blowing Snow 3

        

  دور سے دکھائی دیتےسفید برف سے ڈھکے  ٹند منڈ کے درخت  ۔ ۔جنھیں قریب سے دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ

 انسانی ہاتھ ۔ ۔  

 بہت کم سرورق پر بنی تصویریں ا تنی سحر انگیز  ہوتی ہیں جو آپ کو  رکنے پر ،ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیتی ہیں  ۔۔ یوں     لگتا ہے کہ اپنے سحر سے وہ باندھ رہی ہو ۔سوچ کے راستے کھولتے ہوئے  ۔ ۔ اس کتاب کے ہاتھ میں آتے ہی پہلا خیال یہی آیا کہ 

خوائش کیا ہوتی ہے؟ کیسی ہوتی ہے ؟ اور اگر   زندگی میں خوائشات کی سمت صحیح نہ ہو ۔ ۔ ۔

تو سب کچھ میسر ہوتے ہوئے بھی انسان  کیسے ” لا حاصل ” رہ جا تا ہے    ؟؟؟؟؟؟؟؟

 خالی ہاتھ رہ جانا کیا ہوا کرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟

  انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی دل لئے پھرے ؟؟؟؟؟؟

 کچھ اقتبا سات کی صورت   . . دل چاہا کہ اس ناول سے سب کی آشنائی کروائی جائے

 ”اس سے ذیادہ تکلیف دہ چیز کوئی اور ہوسکتی ہے کہ جس سے آپ محبت کرتے ہیں وہ آپ کو دیکھتا تک نہ ہو- آپ  کے علاویہ اس کو سب نطر آتے ہوں- سب کا خیال ہو اسے- وہ سب سے بات کرتا ہو  ۔ ۔ ۔ بس آپ سے بات نہ کرے”

   “اگر اللہ سے صرف ایک چیز چاہیے ہو اور وہ بھی نہ ملتی ہو”؟

 

میں نے اللہ سے صرف ایک چیز مانگی ہے اور وہ بھی نہیں دے رہا  ۔ ۔ ۔آپ بتائیے ماما جان!میری دعا  میں اثر نہیں یا میں  بدقسمت ہوں

 

 

 ”تم بدقسمت نہیں ہو تم نے جو مانگا اس کے نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہاری دعا میں اثر نہیں ہے- ارشاد رسول(ص) ہے کہ زمیں پر جو مسلمان اللہ تعالی سے سے کوئی ایسی دعا کرتا ہو ہے جس مین کوئی گناہ  یا قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالی اسے وہی عطا کردیتا ہے  جو اس نے مانگا ہیے یا اس کی کوئی تکلیف رفع کردیتا ہے یا اس کے لئے اس دعا کے برابر اجر کا ذخیرہ کردیتا ہے”

 

 

کیا آپ کو پتا ہے ماماجان دنیا کتنی خوبصورت ہے؟؟

 “ہاں میں جانتی ہوں دنیا کتنی خوبصورت نظر آتی ہے“ 

  

  “کتنی خوشی ہوتی ہے نا ماما جان جب کسی دکان میں جائیں اور اس قابل ہوں کی وہاں موجود قیمتی چیز  بھی خرید سکتے ہوں-“

    “اور تمہیں پتہ ہے مریم دنیا میں سب سے سستی چیز کون ہے؟؟؟    خریدار

    ماما جان کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے وہ چیز مل گئی ہے جس سے مجھے محبت ہے؟؟

      

 “تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ تمہارے پاس وہ چیز رہے جس سے تمہیں محبت ہے“

“بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر  اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہےاور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا-  -  - -کچھ کہنے کی ضرورت رہتی ہی نہیں“۔ ۔ ۔ 

      دنیا  وہ دو دھاری تلوار ہے جس پر ننگے پاؤں چلنا پڑتا ہے – چلنا ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 
   پیروں کو زخمی کرنے والی چیز سے کیسے محبت کرنے لگتے ہیں لوگ ؟؟؟؟؟؟؟؟ کیوں کرنے لگتے ہیں؟؟؟؟

    

واقعی ہم کیوں کرتے ہیں ا یسا؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 (عمیرہ احمد)

موضوع : Uncategorized


تبصرے (2)


Protected: آج ایک اور برس بیت گیا ۔ ۔

Tuesday 1 January 2008

This post is password protected. To view it please enter your password below:


موضوع : Uncategorized


Enter your password to view comments



بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔