امید

فلسفہ محبت”"کلیات خلیل جبران“

Friday 23 May 2008

فلسفہ محبت

محبت کیا ہے؟؟؟؟جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے جاؤ“
      ‘  باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں  ‘اور جب وہ تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو برضا لپٹ جاؤ“

       “ اور جب وہ تم سے بات کرے تو اس کا یقین کرو“
   
    “خواہ اس کی آواز تمہارے تمام مرغوب خوابوں کو منتشر کردے ۔ ۔ ۔ جس طرح نسیم شمالی  باغیچہ کو ویران کر ڈالتی ہے“

        یاد رکھو کہ محبت تمہارے سر پر تاج رکھتی ہےتو ساتھ ہی تمہیں سولی پر بھی چڑھا دیتی ہے-

    جس طرح وہ تمہاری روح کے  سبزہ زار کو شاداب رکھتی ہے اس طرح وقتا ً فوقتا ً اس سبزہ زار کی بہت سی بے کار اور خودرو گھاسکو تراشتی اور چھانٹتی بھی رہتی ہے-

      محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے !“ 

  “ اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس جوہر لطیف کے جو اسی کا ہے
  “ محبت قبضہ نہیں کرتی ،     نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہےاورجب تم محبت کرو تو اس سے یہ نہ کہنا کہ 
                                    
    “وہ میرے دل  میں ہے“

                 بلکہ کہو تو یہ کہ کہ
                        
         “میں اس کے دل میں ہوں“
 
  “اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ تم محبت کو راستہ بتا سکتے ہو“

  وہ تم کو راستہ بتاتی ہے،  بشرطیکہ تم  کو  اس قابل پائے“
  پھر اگر تم محبت کرو،  اور خوائشیں اور تمنائیں بھی رکھو تو گھل کر پانی ہوجاؤ۔ ۔ ۔ ۔  بہتے چشمے کی طرح   “جو شب کی ظلمت کو اپنا نغمہ سنا تا ہے“

 پھر اس درد کو پہچانو جو اس چشمے کے اندر سے ذوق پیدا کرتا ہے“     

   “اور محبت کے متعلق  جو کچھ علم تم کو حاصل ہوجائے اسی سے مجروح ہوجاؤ“

     طلوع آفتاب کے وقت اس طرح  بیدار ہوجاؤ کہ گویا “دل ایک پرند ہے “
 
     “جو اپنے پر کھولے ہوئے آمادہ پرواز ہے“
   
               اورشکر کرو کہ محبت کرنے کا ایک اور دن نصیب ہوا ہے

   دوپیر کو جب تم آرام کرو تو اس آسائش کی ساعت میں بھی محبت کے کیف بے نہایت سے لطف اندوز ہو“

     دن بھر کی محبت کے بعد شام کو گھر آؤ  ۔ ۔ ۔ محبت کے احسان مند اور شکر گزار ہوکر-“

      “پھر شب  کو اس طرح اپنی آنکھیں بند کرو کہ دل محبوب کے لئے دعاؤں سے معمور ہو“
 
   اور تہارے لبوں پر مدح توصیف کی ایک راگنی رقص کر رہی ہو“

موضوع : Uncategorized


تبصرے (2)


2 تبصرے

Comment by محمد وارث

بتاریخ Friday, 23 of May , 2008 بوقت 8:45 pm

بہت خوبصورت تحریر ہے امید، شکریہ شیئر کرنے کیلیئے۔ خلیل جبران کو میں بھی پڑھا کرتا تھا کبھی، اور بھی بس کبھی کبھی۔۔۔

Comment by امید

بتاریخ Sunday, 1 of June , 2008 بوقت 7:15 am

بہت شکریہ وارث

خلیل جبران کو جب بھی پڑھا جائے بہت نیا سا احساس ہوتا ہے

اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: آپ اِن ٹیگز کو استعمال کر سکتے ہیں: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔