Friday 20 June 2008
پروین شاکر کی کتاب “انکار” سے نظم ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے ۔ ۔ ۔
ایک اداس نظم
یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
تیرے پیرہن کی خوشبو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر!
ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئے گا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصہ جدائی
کوئی کار نا مکمل
کوئی خواب نا شگفتہ
کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے!
ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہد مہربا ں میں
کسی خواب کے یقین میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں!
(پروین شاکر- انکار )
موضوع : Uncategorized
تبصرے (9)
Wednesday 18 June 2008
میں تیرے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں
کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے
بشیر بدر
موضوع : Uncategorized
تبصرے (3)
Monday 9 June 2008

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف . .
گزشتہ چند ایام سے ڈاکٹر عبدالقدیر کی قید میں نرمی ، ان کا بیاں، عزیز و اقارب کے ساتھ ملنے کی
اجازت ، جیسے بیاں پڑھ کر دل چاہا کہ لکھا جائے ویسے بھی بلاگ کے آغاز سے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر پر لکھنے کی خوائش کے باوجود اس احساس ندامت نے کبھی لکھنے نہ دیا کہ میں اس قوم کا حصہ ہوں جو اپنے محسن کے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہے ۔ہماری بےحسی کا عالم تو یہ ہے کہ ہم اپنے محسن کو سر عام معافی مانگتے دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں ۔ ۔ ۔
بحیشیت پاکستانی قوم پچھلے چند سالوں میں کی جانے والی غلطیوں میں ایک ناقابل تلافی غلطی ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ کیا جانے والا برتاؤ ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔
کیا قومیں اپنے محسنوں کے ساتھ یہی سلوک رواں رکھتی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟
ایک ایسی قوم جہاں کبھی کسی نے اپنے گناہوں اور غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان پر فخر کیا وہاں
ملک کے سب سے پڑے سائنسدان نے ان گناہوں کی معافی مانگی جو شاید اس نے کبھی کئے ہی نہیں ۔ ۔ ۔
اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ لکھیں تو کوئی معافی نہیں مانگتا ۔ ۔کبھی کسی نے معافی نہیں مانگی اس ملک میں وہ بھی حکمران رہا جس کے غیر ملکی دورے کے دوران جہاز محض اس لئے دو گھنٹے فضا میں چکر لگاتا رہا کہ صدر محترم کا نشہ اتر جائے اور جب وہ دشمن پر حملہ کرنے کا حکم دینے نکلے تو دو جوانوں نے انہیں دائیں بائیں اٹھا رکھا تھا ۔ ۔پر اس نے کبھی معافی نہیں مانگی
ماضی کا کوئی پالیسی میکر ،کوئی سیاستدان، کوئی خطیب ،کوئی حکمراں معافی نہیں مانگتا وہ بھی نہیں جن کے لانز میں دودو لاکھ کے کتے اور اصطبلوں میں ساتھ ساتھ لاکھ کے ارجنٹائن گھوڑے رہے ۔ ۔جن کے ہوٹلوں کے بلز کئی کئی کروڑوں سے تجاویز کر جاتے ہیں جن کی زمینوں پر لاکھوں مزارعے جانوروں جیسی زندگی گزارتے ہیں اور جو ہر سال اپنی عیاشیوں میں کروڑوں روپیہ لٹا دیتے ہیں
کہتے ہیں کہ معافی مانگنے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر پھوٹ پھوت کر روئے تھے کیا ہم ان آنسوؤں کا ازالہ کر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا ہم اس دکھ کا حساب دے سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟
سوائے اس کے کہ ہم بے حد شرمندہ ہیں ۔ ۔ ۔
موضوع : Uncategorized
تبصرے (2)