ایک اداس نظم -پروین شاکر
Friday 20 June 2008
پروین شاکر کی کتاب “انکار” سے نظم ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے ۔ ۔ ۔
ایک اداس نظم
یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
تیرے پیرہن کی خوشبو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر!
ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئے گا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصہ جدائی
کوئی کار نا مکمل
کوئی خواب نا شگفتہ
کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے!
ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہد مہربا ں میں
کسی خواب کے یقین میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں!
(پروین شاکر- انکار )
موضوع : Uncategorized
تبصرے (9)
Comment by محمد وارث
بتاریخ Friday, 20 of June , 2008 بوقت 10:47 pm
بہت خوب
Comment by ساجداقبال
بتاریخ Saturday, 21 of June , 2008 بوقت 12:31 am
آپ نے تو فانٹ بھی اداس کر دیا ہے۔ صرف اداس شاعری ہی نہ لکھیں کچھ مزاح بھی شامل کریں۔
Comment by admin
بتاریخ Saturday, 21 of June , 2008 بوقت 1:12 am
بہت شکریہ وارث
امید
Comment by admin
بتاریخ Saturday, 21 of June , 2008 بوقت 1:16 am
شکریہ ساجد اقبال میرے بلاگ پر آنے کا
اور شاعری میں سوز و گداذ نہ ہو تو وہ اثر نہیں کرتی ۔ ۔
بہر حال کوشش کروں گی
Comment by محب علوی
بتاریخ Friday, 4 of July , 2008 بوقت 7:26 am
بہت خوبصورت نظم ہے اور بہت عمدہ گائی گئی ہے شاید ٹینا ثانی نے گائی ہے۔
Comment by فرحت کیانی
بتاریخ Tuesday, 15 of July , 2008 بوقت 4:08 am
السلام علیکم امید!
کیسی ہیں آپ؟
اور پروین شاکر کی یہ نظم مجھے بھی بہت پسند ہے۔ بہت خوب۔
امید! میں نے آپ کو ٹیگ کیا ہے۔ جلدی سے جواب دیجئے۔
http://dareecha.urdutech.com/?p=80
Comment by admin
بتاریخ Thursday, 17 of July , 2008 بوقت 8:00 am
فرحت،
مشکل میں ڈال دیا فرحت ٹیگ کرکے۔ ۔۔
حال اچھا نہیں بالکل بھی ۔ ۔ذرا سا بہتر ہونے دیں پھر جواب دیتی ہوں
امید
Comment by فرحت کیانی
بتاریخ Tuesday, 28 of October , 2008 بوقت 11:27 am
السلام علیکم امید
کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟ اور آپ کے جواب کہاں ہیں؟ میں کب سے انتظار کر رہی ہوں۔
Comment by admin
بتاریخ Friday, 14 of November , 2008 بوقت 8:34 am
اف احساس ہورہا ہے اپنی نالائقی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔