امید

ایک ناول ” شاید شمع جلتی رہے”

Saturday 4 October 2008

  

” شاید شمع جلتی رہے” 

   بہت دنوں بعد کسی تحریر نے اپنی گرفت میں یوں لیا کہ یکدم اس سے کچھ لکھنے کی خوائش جاگی      

      ‘تبدیلی کے لئے ایک لمحہ بھی بہت ہوتاہے”  

     “جو چیز آپ کو دکھ یا تکلیف دے اس کی عادت کیسے پڑ سکتی ہے؟؟ اس کی عادت پڑنی بھی نہیں چاہیے اس کا تو یہ مطلب ہے کہ آپ نے ہار مان لی۔۔اپنے آپ سے ہار مان لی- اپنے حالات سے ہار مان لی اور جو لوگ ہار مان لیتے ہیں ، پھر وہ کہیں نہیں ہوتے” 

  “اصل میں جس کو ہم اپنی محرومی سمجھ رہے ہوتے ہیں وہی ہماری طاقت ہوتی ہے اللہ تعالی ایک چیز لیتا ہے تو دوسری کوئی چیز ضرور عطا کرتا ہے “ 

       زندگی کہاں اسان ہوتی ہے؟؟’  یہ تو ہم پر منحصر ہو تا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو کتنا آسان بناتے ہیں؟ 

  ‘ہم سب اس بات کو مانتے  ہیں کہ جو اوپر بیٹھا ہےسب کچھ اس کے ہاتھ میں اور وسیلہ کوئی چیز بھی ہو سکتی ہے ‘  

    “ہم کتنا کچھ سوچتے ہیں – طرح طرح کی راہیں تلاش کرتے ہیں -لیکن گردشوں کے اسیر  رہتے ہیں اور گردشیں ہی لکھی ہیں تو کس نے کہا ہے کہ اتنا سوچو کہ بند مٹھی کی آگ  دامن تک جاپہنچے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کے محبت پر اتنا بوجھ نہ ڈالو  کہ وہ ٹوٹ  جائے گی تو جو ٹوٹ جائے گی وہ محبت  ہی نہیں ہوگی “ 

   “ایک زندگی میں انسان کتنی خوائشات کی تکمیل چاہتا ہے” 

   ” اور ایک زندگی میں انسان کو سب  ہی کچھ دیکھنا ہوتا ہے   بس اللہ پر یقین ہونا چاہیے اندر بہت گہرائیوں سے۔۔جہاں تک کسی کی نظر نہیں جاتی”    “زندگی تو ہر ایک کے لئے نامتعبر ہے -لیکن ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اسی شیشے کی زندگی کے لئے کرتے ہیں -شیشہ اگر ہاتھ سے  گر گیا تو سے ٹوٹ  گیا اور شیشہ تو کسی کے ہاتھ بھی گر سکتا ہے ، چاہے وہ تم ہو،یا میں کسے خبر ہے -بس ایک  امید  ہے وہ ضرور ہونی چاہئے -زندگی تر غیب دے یتی ہے -چیرے زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں “

   محبت  واقعی متعبر ہے، مجعزہ ہے  ، بس ایک امید ہونی چاہئے کہ شمع جلتی رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)


5 تبصرے

Comment by فرحت کیانی

بتاریخ Tuesday, 28 of October , 2008 بوقت 11:25 am

‘تبدیلی کے لئے ایک لمحہ بھی بہت ہوتاہے”

بہترین انتخاب امید :)

کیسی ہیں اور کہاں ہیں؟

Comment by محب علوی

بتاریخ Sunday, 9 of November , 2008 بوقت 8:58 pm

بہت عمدہ انتخاب ہے اور بروقت بھی ہے۔

یہ ناول کس سال میں لکھا گیا اور کس نے لکھا ہے؟

Comment by admin

بتاریخ Friday, 14 of November , 2008 بوقت 8:43 am

صحیح کہا آپ نے فرحت ۔۔ مگر اس تبدیلی کو تبدیل کرنے کے پھر عمر بھر کے لمحے بھی کم ہوتے ہیں

ٹھیک ہوں – مجھے بھی یہی لگتا ہے آج کل کہ کہیں کھو سی گئی ہوں

امید

Comment by admin

بتاریخ Friday, 14 of November , 2008 بوقت 8:52 am

محب علوی،

اچھ اہے نا؟ کئی دنوں تک اس ناول نے اپنی گرفت میں رکھا ہے۔۔۔۔اس پر بات کرنے کی اتنی خوائش جاگ رہی تھی جبھی لکھا

(شمع جلتی رہے اکتوبر -2008)

Comment by سارہ

بتاریخ Thursday, 25 of December , 2008 بوقت 10:28 am

السلام علیکم ۔۔۔ یہ ناول کس نے لکھا ہے امید ۔۔ میں بھی پڑھوں گی ۔۔۔

اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: آپ اِن ٹیگز کو استعمال کر سکتے ہیں: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔