امید

پروین شاکر کی یاد میں

Saturday 27 December 2008

  پروین شاکر کی یاد میں

رواں صدی میں اردوادب کی خواتین شعرا کا ذکر پروین شاکر کے تذکرے کے بناء نامکمل سا لگتا ہے

خوشبو، صد برگ ، خود کلامی، انکار جیسی کتابوں کی تخلیق کار کو آج ہم سے بچھڑے چودہ برس بیت گئے ۔

پروین شاکر- تعارف

 پروین شاکر 24 نومبر ،1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں -انگریزی ادب، لسانیات اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا-سول سروسزز اختیار کرنے سے پہلے نو سال تک تدریسی شعبے سے وابستہ رہیں- ١٩٨٦ میں سیکیٹری دوئم کی حیثیت سے سی بی آر اسلام آباد میں تقرر ہواپروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا
 

بعض نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ـانکی کتابوں کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں ـ

 خوشبو-١٩٧٦صد برگ ١٩٨٠خود کلامی ١٩٨٠انکار 1٩٩٠

 ماہِ تمام ١٩٩٤

 

 ”خوشبو

ابر بہار نے

 پھول کا چہرہ

  اپنے بنفشی ہاتھ میں لے کر

ایسے چوما

پھول کے سارے دکھ 
   خوشبو بن کر بہہ گئے

پھول، خوشبو، ہوا، بادل، رنگ، تتلیاں ، موسم، پروین کی شاعری کے استعارے ہی نہیں بلکہ نوخیز اور نوعمر جذبوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں

 
 کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
 اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
 کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
  بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لو ٹا تو میرے پاس آیا
 بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی میں
صنف نازک سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پروین کی شاعری میں نرم روی، نرم گفتاری ، محبتوں کے لئے خلوص، رشتوں کے لئے قربانی اور ایثار کے رنگ نمایا ں ہیں جو کے مشرق کی خواتین کا مزاج ہیں

  • کمال ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

  • میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی۔۔۔

  •   اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
  تھا کسی وقت میں اپنا لوگو ۔ ۔
بجا طور پر پروین صنف نازک کے احساسات اور جذبات کی بہترین عکاسی پورے وقار کے ساتھ کرتی ہیں
 کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کر تنہائی میں
 میرے چہرے پر تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی 
ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا
 
  اپنی زندگی میں ماہ تمام رقم کرتے ہوئے پروین نے شاید کچھ ایسا ہی سوچا تھا

 موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں

  کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے

 
عمر کا بھروسہ کیا، پل کا سات ہوجاے
اک بار اکیلے میں ، اس سے بات ہوجاے
دل کی گنگ سرشاری اس کوجیت لے لیکن
عرض حال کرنے میں احتیاط ہوجاے
ایسا کیوں کے جانے سے صرف ایک انسان کے
ساری ذندگانی ہی بے ثبات ہو جاے
 

موضوع : Uncategorized


تبصرے (17)


“ فلسفہ ء دعا“(”کلیات خلیل جبران“)

Thursday 25 December 2008

فلسفہ ء دعا

تم اپنی مصیبت اور احتیاج کی حالت میں دعا کرتے ہوکاش تم کمال مسرت اور انتہائی خوشحالی میں بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا تےاس وقت جب تمہارے دل میں مسرتوں کا ہجوم ہوتا تم اس چھوٹے سے مہمان کے لئے بھی کوئی جگہ نکال لیتےدعا ہے کیا ؟؟؟؟
———–
سوائے اس کے کہ وہ ایک کیفیت ہے جب انسان اپنے آپ کو فضائے بسیط میں پھیلا دیتا ہےاور تمہارے پاس اس کے سوائے کوئی چارہ نہیں کہ اس وقت جب تمہاری روح تمکو دعا کی طرف بلائے تو تم اپنے بہتے ہوئے آنسو لے کر اس کی طرف جاؤتو پھر کیا ہی اچھا ہو تمہاری روح تمہیں بار بار اکسائے اور بڑھائےاور تم بار بار اس منزل کی طرف جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے آنسو اور اپنی آہیں لے کر-”اور بار بار اس سفر سے ہستے اور مسکراتے واپس آؤجب تم دعا میں مشغول ہوتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔گم ہوجاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ تو یاد رکھو کہ تم فضا میں بلند ہو کر ان لوگوں کی روحوں سے متصل ہوجاتے ہو جو عین اس لمحے میں دست بدعا ہوں اور جن سے سوائے اس عالم کے تم پہلے کبھی نہ مل سکے ہوپس دعا کے مندر میں تم اقدام ہائے اس کیف وصال اور اتحاد شیریں کے کسی اورغرض سے نہ رکھا جائےاس لئے کہ تم اگر اس مندر میں صرف مانگنےاور لینے کے لئے جاتے ہوتو اغلب ہے کہ تمہیں کچھ نہ ملے گااور اگر اس مندر میں محض عجز کا ،مظاہرہ کرنے کے لئے جاتے ہو تو تمہیں شرما کر واپس آنا ہوگا -”اور اگر اس مندر میں تم دوسروں کی سفارش کرنے کے لئے جاتے ہو تو تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تمہاری سنی جائےپس تمہارے لئے کافی ہے یہ کہ تم اس نامعلوم مندر میں نامعلوم طریقہ پر جاؤ-”

میں تمہیں زبان کے لفظوں سے مانگنے کا کوئی طریقہ نہیں بتا سکتا مجھے نہیں معلوم-”اوراگر تم رات کی تاریکی میں سننے کی کوشش کرو تو تم سمندر کی موجوں اور صحرا کو یہ کہتے سنو گے -”اے معبود ہمارے! ہم تیرا ہی عکس حقیقت ہیں- -تیری ہی رضا ہمارے اندر ہے ہے جو حکم دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔تیرا ہی جذبہ طلب ہمارے اندرہے جو ہمیں “طلب سکھاتا ہےتیرا ہی تقاضہ وہ ہے جو ہماری راتوں کو۔ ۔ ۔ ۔جو تیری راتیں ہیں ۔ ۔ ۔ دن بناتا ہے۔ ۔ ۔ وہ دن جو تیرے ہی دن ہیں۔ ۔ ۔ ۔ہم تجھ سے کچھ نہیں مانگ سکتے – اسلئے تو ہماری ضرورتوں سے ان کے پیدا ہونے سے پہلے واقف ہوتا ہے!تو ہماری ضرورت ہے- تجھ ہی سے ہماری احتیاج ہے“-
——————————————————-
اور جب تو ہم کو اپنے وجود سے ایک حصہ دے ڈالتا ہے تو سب کچھ دے ڈالتا ہے جوہم کو ملنا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم کیا مانگیں !

“فلسفہ جبران(”کلیات خلیل جبران“

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)


محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے

Tuesday 2 December 2008

                                               

  محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے               

 جس میں تم لکھو

کہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے، کون سی خوشبو لگانی ہے

کسے کیا بات کہنی، کون سی کس سے چھپانی ہے

کہاں کِس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہے

مل کر پوچھنا ہے

کیا تمہیں مجھ سے محبّت ہے؟

یہ فرسودہ سا جملہ ہے

مگر پھر بھی یہی جملہ

دریچوں، آنگنوں، سڑکوں، گلی کوچوں میں چوباروں میں

چوباروں کی ٹوٹی سیڑھیوں میں

ہر جگہ کوئی کسی سے کہہ رہا ہے

کیا تمہیں مجھ سے محبّت ہے؟

محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے

جس میں تم لکھو

تمہیں کس وقت، کس سے کِس جگہ ملنا ہے کِس کو چھوڑ جانا ہے

کہاں پر کس طرح کی گفتگو کرنی ہے یا خاموش رہنا

کسی کے ساتھ کتنی دور تک جانا ہے اور کب لوٹ آنا ہے

کہاں آنکھیں ملانا ہے کہاں پلکیں جھکانا ہے

یا یہ لکھّو کہ اب کی بار جب وہ ملنے آئے گا

تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر

دھنک چہرے پہ روشن جگمگاتی رقص کرتی اس کی آنکھوں میں اتر جائیں

گے

اور پھر گلشن و صحرا کے پیچوں پیچ دل کی سلطنت میں خاک اڑائیں گے

بہت ممکن ہے وہ عجلت میں آئے

اور تم اس کا ہاتھ، ہاتھوں میں نہ لے پاؤ

نہ آنکھوں ہی میں جھانکو اور نہ دل کی سلطنت کو فتح کر پاؤ

جہاں پر گفتگو کرنی ہے تم خاموش ہو جاؤ

جہاں خاموش رہنا ہے وہاں تم بولتے جاؤ

نئے کپڑے پہن کر گھر سے نکلو، میلے ہو جاؤ

کوئی خوشبو لگانے کا ارادہ ہو تو شیشی ہاتھ سے گر جائے

تم ویران ہو جاؤ

سفر کرنے سے پہلے بے سروسامان ہو جاؤ

محبت ڈائری ہرگز نہیں ھے آبِ جو ھے

جو دلوں کے درمیاں بہتی ھے خوشبو ھے

کبھی پلکوں پہ لہرائے تو آنکھیں ہنسنے لگتی ہیں

جو آنکھوں میں اتر جائے تو منظر اور پس ِمنطر میں شمعیں جلنے لگتی

ہیں

کسی بھی رنگ کو چھو لے

وہی دل کو گوارا ہے

کسی مٹی میں گھل جائے

وہی مٹی ستارہ ہے

محبّت ڈائری ہرگز نہیں ہے – سلیم کوثر

موضوع : Uncategorized


تبصرے (10)




بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔