امید

“ فلسفہ ء دعا“(”کلیات خلیل جبران“)

Thursday 25 December 2008

فلسفہ ء دعا

تم اپنی مصیبت اور احتیاج کی حالت میں دعا کرتے ہوکاش تم کمال مسرت اور انتہائی خوشحالی میں بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا تےاس وقت جب تمہارے دل میں مسرتوں کا ہجوم ہوتا تم اس چھوٹے سے مہمان کے لئے بھی کوئی جگہ نکال لیتےدعا ہے کیا ؟؟؟؟
———–
سوائے اس کے کہ وہ ایک کیفیت ہے جب انسان اپنے آپ کو فضائے بسیط میں پھیلا دیتا ہےاور تمہارے پاس اس کے سوائے کوئی چارہ نہیں کہ اس وقت جب تمہاری روح تمکو دعا کی طرف بلائے تو تم اپنے بہتے ہوئے آنسو لے کر اس کی طرف جاؤتو پھر کیا ہی اچھا ہو تمہاری روح تمہیں بار بار اکسائے اور بڑھائےاور تم بار بار اس منزل کی طرف جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے آنسو اور اپنی آہیں لے کر-”اور بار بار اس سفر سے ہستے اور مسکراتے واپس آؤجب تم دعا میں مشغول ہوتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔گم ہوجاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ تو یاد رکھو کہ تم فضا میں بلند ہو کر ان لوگوں کی روحوں سے متصل ہوجاتے ہو جو عین اس لمحے میں دست بدعا ہوں اور جن سے سوائے اس عالم کے تم پہلے کبھی نہ مل سکے ہوپس دعا کے مندر میں تم اقدام ہائے اس کیف وصال اور اتحاد شیریں کے کسی اورغرض سے نہ رکھا جائےاس لئے کہ تم اگر اس مندر میں صرف مانگنےاور لینے کے لئے جاتے ہوتو اغلب ہے کہ تمہیں کچھ نہ ملے گااور اگر اس مندر میں محض عجز کا ،مظاہرہ کرنے کے لئے جاتے ہو تو تمہیں شرما کر واپس آنا ہوگا -”اور اگر اس مندر میں تم دوسروں کی سفارش کرنے کے لئے جاتے ہو تو تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تمہاری سنی جائےپس تمہارے لئے کافی ہے یہ کہ تم اس نامعلوم مندر میں نامعلوم طریقہ پر جاؤ-”

میں تمہیں زبان کے لفظوں سے مانگنے کا کوئی طریقہ نہیں بتا سکتا مجھے نہیں معلوم-”اوراگر تم رات کی تاریکی میں سننے کی کوشش کرو تو تم سمندر کی موجوں اور صحرا کو یہ کہتے سنو گے -”اے معبود ہمارے! ہم تیرا ہی عکس حقیقت ہیں- -تیری ہی رضا ہمارے اندر ہے ہے جو حکم دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔تیرا ہی جذبہ طلب ہمارے اندرہے جو ہمیں “طلب سکھاتا ہےتیرا ہی تقاضہ وہ ہے جو ہماری راتوں کو۔ ۔ ۔ ۔جو تیری راتیں ہیں ۔ ۔ ۔ دن بناتا ہے۔ ۔ ۔ وہ دن جو تیرے ہی دن ہیں۔ ۔ ۔ ۔ہم تجھ سے کچھ نہیں مانگ سکتے – اسلئے تو ہماری ضرورتوں سے ان کے پیدا ہونے سے پہلے واقف ہوتا ہے!تو ہماری ضرورت ہے- تجھ ہی سے ہماری احتیاج ہے“-
——————————————————-
اور جب تو ہم کو اپنے وجود سے ایک حصہ دے ڈالتا ہے تو سب کچھ دے ڈالتا ہے جوہم کو ملنا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم کیا مانگیں !

“فلسفہ جبران(”کلیات خلیل جبران“

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)


5 تبصرے

Comment by ڈفر

بتاریخ Friday, 26 of December , 2008 بوقت 3:19 am

بہت خوبصورت چناؤ کیا ہے آپ نے پوسٹ کے لئے :)
بہت کم کم لکھتی ہیں آپ

Comment by admin

بتاریخ Friday, 26 of December , 2008 بوقت 4:04 am

ڈ فر،

بہت شکریہ بلاگ پر تبصرے کا ۔ ۔
ذیادہ پڑھنا اور کم لکھنا عادت ٹھہری

امید

Comment by ڈفر

بتاریخ Saturday, 27 of December , 2008 بوقت 12:12 pm

زیادہ پڑھنے مین سے کچھ ہمارے پڑھنے کو بھی لکھ دیا کریں

Comment by فرحت کیانی

بتاریخ Sunday, 28 of December , 2008 بوقت 5:47 am

“تم اپنی مصیبت اور احتیاج کی حالت میں دعا کرتے ہو“کاش تم کمال مسرت اور انتہائی خوشحالی میں بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا تے‘اس وقت جب تمہارے دل میں مسرتوں کا ہجوم ہوتا تم اس چھوٹے سے مہمان کے لئے بھی کوئی جگہ نکال لیتے“

ہم اس فلسفے کو سمجھ لیں تو زندگی کتنی پُرسکون ہو جائے۔

Comment by esosseBah

بتاریخ Thursday, 5 of March , 2009 بوقت 11:12 am

Thank you!

اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: آپ اِن ٹیگز کو استعمال کر سکتے ہیں: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔