خودکلامی
Thursday 30 April 2009
خودکلامی
بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خوائش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔
بہت بار بہت سے موضوعات پر لکھنے کی خوائش تو رہتی ہے پر آج دل کی خوائش ہے کہ ساری مصروفیات کو ترک کرکے صرف باتیں کی جائیں ۔ ۔ عجیب سی یاسیت ہے جو بہت دنوں سے ساتھ محسوس ہوتی ہے ہر ایک شے ٹھہری ہوئی ،جامد سی محسوس ہوتی ہے یوں لگتا ہے جیسے بہت دن سے ہوگئے ہوں خود کلام ہوئے
مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خوائش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے
موضوع : Uncategorized
تبصرے (7)
Comment by DuFFeR - ڈفر
بتاریخ Friday, 1 of May , 2009 بوقت 2:58 am
میں تو سڑک کنارے بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا
پاکستان میں بغیر ویزے کے اگلے جہان پہنچا دیتے ہیں
اور باہر ٹکٹ پکڑا دیتے ہیں
اب تو سنسان گوشہ ڈھونڈنا بھی مشکل ہے
ہر جگہ اتنی کھپ ہے کہ اپنے کمرے کے علاوہ کہیں سکون ملنا مشکل ہے
ہاں دوسری اگر کوئی جگہ ہے تو وہ میرا خیال ہے ”مسجد“
نا رش ہوتا ہے نا کھپ، سکون ہی سکون
لیکن وہاں جا کر بھی اپنے آپ سے ہی باتیں کرو تو غلط بات ہے نا!
Comment by DuFFeR - ڈفر
بتاریخ Friday, 1 of May , 2009 بوقت 3:02 am
ویلکم بیک لکھنا تو بھول ہی گیا
آپ کے ہی بلاگ پر آپ کو ویلکم بیک
Comment by محمد وارث
بتاریخ Saturday, 9 of May , 2009 بوقت 10:28 am
چاہ کرنے میں واقعی کوئے حرج نہیں ہے، اور جو کام ؔپ بیچ سڑک پر بیٹھ کر کرنا چاہتی ہیں مجھے کبھی کبھی اس کا موقع مل ہی جاتا ہے
Comment by admin
بتاریخ Wednesday, 13 of May , 2009 بوقت 12:05 am
بہت شکریہ ڈفر ،
تبصرے کا ۔۔۔ خوش آمدید کا ۔۔۔
Comment by admin
بتاریخ Wednesday, 13 of May , 2009 بوقت 12:11 am
بہت شکریہ وارث ،
پر کیا کیا جائے کہ چاہ کے ساتھ اس کے پوری ہونے کی آس کا بندھ جانا مشکل کرتا ہے
بہر حال آپ کے تبصرے نے بے ساختہ سیالکوٹ کینٹ کی سڑک یاد کروادہ ہے ۔۔۔۔۔۔
امید
Comment by تانیہ رحمان
بتاریخ Tuesday, 9 of June , 2009 بوقت 7:55 am
ااسلام وعلیکم میرا خیال ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ میں پہلی بار آئی ہوں ۔ چلو پہلے تو اپنے آپ کو خوش امدید کہتی ہوں ۔ ابھی میں نے پورا بلاگ کا چکر نہیں لگایا ۔ خالی پیٹ چلا بھی نہیں جاتا اس لیے سوچا خودکلامی کیجائے وہ بھی تھوڑے وقت کے لیے ۔ اور امید ہے کہ دوبارہ بھی چکر لگتا رہے گا تب تک آپ اپنے ساتھ خودکلامی کیجے ۔
Pingback by مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ
بتاریخ Wednesday, 10 of June , 2009 بوقت 11:06 pm
[...] طویل غیر حاضری کے بعد اپنے بلاگ پر ایک تحریر ’خود کلامی‘ میں احوالِ دل یوں بیان کرتی ہیں: ’’بہت سے وقت کے بعد [...]