“نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ
Tuesday 30 June 2009
نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ
بازنطائن -قسطنطینہ – استنبول”
وینس کی خوبصورتی کا انحصار سمنرد پر ہے پر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لئے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے – صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد- نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار- ترک سلطانوں کا محل سرا- شاخ زریں پر پل – الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لمبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑھے ہوں
اس خطے میں گرمیوں میں کسی بھی وقت تاریکی نہیں ہوپاتی- رات کو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دینے والی تاریکی کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں ہے ، وہ سویڈن آکر مہمل ہوجاتا ہے – گرمیوں میں گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے تو صبح دو بجے طلوع ہو جاتا ہے -یہاں تک کے صبح تین بجے دھوپ ہمارے ہاں کی تیز دوپہروں کی مانند چمک رہی ہوتی ہیں – طلوع و غروب کے درمیانی وقفے میں بھی زمین اور فلک کے درمیاں روشنی کی مدھم چادر بچھی رہتی ہے- اہل سویڈن اس روشنی کو نیلی شفق کا نام دیتے ہیں
موضوع : Uncategorized
تبصرے (7)