فلسفہ محبت“”فلسفہ جبران”کلیات خلیل جبران“
Friday 12 June 2009
“فلسفہ محبت“محبت کیا ہے
“ جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے
جاؤ“
‘ باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں“
‘اور جب وہ تمہیں اپنے پروں میں لپیٹ لے تو برضا لپٹ جاؤ“
“ اور جب وہ تم سے بات کرے تو اس کا یقین کرو“
“خواہ اس کی آواز تمہارے تمام مرغوب خوابوں کو منتشر کردے ۔ ۔ ۔ جس طرح نسیم شمالی باغیچہ کو ویران کر ڈالتی ہے“
یاد رکھو کہ محبت تمہارے سر پر تاج رکھتی ہےتو ساتھ ہی تمہیں سولی پر بھی چڑھا دیتی ہے-
جس طرح وہ تمہاری روح کے سبزہ زار کو شاداب رکھتی ہے اس طرح وقتا ً فوقتا ً اس سبزہ زار کی بہت سی بے کار اور خودرو گھاسکو تراشتی اور چھانٹتی بھی رہتی ہے-
“ محبت تم کو کچھ نہیں دیتی سوائے اپنے !“
“ اور محبت تم سے کچھ نہیں لیتی سوائے اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اس جوہر لطیف کے جو اسی کا ہے“
“ محبت قبضہ نہیں کرتی ، نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے“ اورجب تم محبت کرو تو اس سے یہ نہ کہنا کہ
“وہ میرے دل میں ہے“
بلکہ کہو تو یہ کہ کہ
“میں اس کے دل میں ہوں“
“اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ تم محبت کو راستہ بتا سکتے ہو“
وہ تم کو راستہ بتاتی ہے، بشرطیکہ تم کو اس قابل پائے“
پھر اگر تم محبت کرو، اور خوائشیں اور تمنائیں بھی رکھو تو گھل کر پانی ہوجاؤ۔ ۔ ۔ ۔ بہتے چشمے کی طرح “جو شب کی ظلمت کو اپنا نغمہ سنا تا ہے“
پھر اس درد کو پہچانو جو اس چشمے کے اندر سے ذوق پیدا کرتا ہے“
“اور محبت کے متعلق جو کچھ علم تم کو حاصل ہوجائے اسی سے مجروح ہوجاؤ“
طلوع آفتاب کے وقت اس طرح بیدار ہوجاؤ کہ گویا “دل ایک پرند ہے “
“جو اپنے پر کھولے ہوئے آمادہ پرواز ہے“
اورشکر کرو کہ محبت کرنے کا ایک اور دن نصیب ہوا ہے“
دوپیر کو جب تم آرام کرو تو اس آسائش کی ساعت میں بھی محبت کے کیف بے نہایت سے لطف اندوز ہو“
دن بھر کی محبت کے بعد شام کو گھر آؤ ۔ ۔ ۔ محبت کے احسان مند اور شکر گزار ہوکر-“
“پھر شب کو اس طرح اپنی آنکھیں بند کرو کہ دل محبوب کے لئے دعاؤں سے معمور ہو“
اور تہارے لبوں پر مدح توصیف کی ایک راگنی رقص کر رہی ہو“
موضوع : Uncategorized
تبصرے (11)
Comment by عمر احمد بنگش
بتاریخ Friday, 12 of June , 2009 بوقت 3:01 pm
جی پہلی حاضری قبول کریں،
نیز یہ اچھا اقتباس ہے لیکن خلیل جبران کی کئی باتیںمجھے سمجھ نہیںآتیں، شاید ابھی میںانھیںسمجھنے کے قابل نہیںہوا۔
بہت اچھا تھیم نصب ہے، اگر فانٹ کو تھوڑا بہتر کر سکیںتو کیا ہی بات ہو۔
(ایک تجویز ہے)۔
Comment by محمد وارث
بتاریخ Friday, 12 of June , 2009 بوقت 9:30 pm
خلیل جبران کا واقعی اپنا ایک منفرد اسلوب ہے، لا جواب۔
Comment by افتخار اجمل بھوپال
بتاریخ Friday, 12 of June , 2009 بوقت 10:39 pm
لکھنے کا شُکریہ
خليل جبران ایک لبناني عيسائي شاعر اور فنکار تھا جو امریکا چلا گيا اور وہیں کا ہو گیا تھا ۔ اس کی باتیں مادی دنیا کی بجائے احساساتی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں
Comment by فیصل
بتاریخ Saturday, 13 of June , 2009 بوقت 4:15 am
یہ خلیل صاحب کی مجھے تو کبھی سمجھ نہیں آئی۔۔ ویسے یہ صاحب کام کیا کرتے تھے؟
Comment by How I Make $300 a Day Online
بتاریخ Wednesday, 17 of June , 2009 بوقت 10:59 pm
Hey, nice post, really well written. You should post more about this.
Comment by محمد وارث
بتاریخ Wednesday, 1 of July , 2009 بوقت 2:11 am
فیصل صاحب یہ وہی کام کرتے تھے جو عموما سبھی شعراء کرتے ہیں یعنی کچھ نہیں
Comment by admin
بتاریخ Sunday, 5 of July , 2009 بوقت 4:21 am
عمر بنگش ۔ ۔خوش آمدید ۔ ۔بلاگ پر
خلیل جبران کی باتیں اتنی بھی مشکل نہیں
اور فانٹ پر تو کیا کہوں ۔ ۔ ۔ کہ ٹھیک کرنا ہے پر ۔ ۔کب یہ نہیں کہا جاسکتا
امید
Comment by admin
بتاریخ Sunday, 5 of July , 2009 بوقت 4:23 am
محمد وارث بہت شکریہ ۔ ۔
اور سارے شاعر نکمے نہیں ہوتے
امید
Comment by admin
بتاریخ Sunday, 5 of July , 2009 بوقت 4:24 am
i am really honoured
اپنے بلاگ پر آپ کی آمد پر
بہت شکریہ امید
Comment by admin
بتاریخ Sunday, 5 of July , 2009 بوقت 4:26 am
بہت شکریہ فیصل
امید
Comment by سلیم
بتاریخ Sunday, 31 of January , 2010 بوقت 3:44 pm
“جب محبت تمہیں اشارہ کرے اس کے پچھے جاؤ‘ باوجود اس کے کہ اس کے راستے مشکل اور دشوارگزار ہیں”
راستے دشوار گزار ہونے کا مطلب مجھ جیسے غریب کے لیے تو محبوب کے دیس کا ویزا نہ لگنا ہی ہو سکتا ہے۔ شاید خلیل جبران بھی کسی ایمبیسیڈر کا دکھا ہوا ہو۔
بہرحال عمدہ تحریر ہے۔ مزا آیا پڑھ کر۔