امید

“نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ

Tuesday 30 June 2009

 نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ

 نکلے تری تلاش میں” مستنصر کی ایک ایسی کاوش جو نا صرف سفر ناموں کی طوالت اور خشکی کے عام تاثر کو زائل کرتی ہے بلکہ آپ کو ایک نئ دنیا سے متعارف کراتی ہے ۔ ۔ نئے جہاں کو دریافت کرنے کا فسوں بیدار سا ہونے لگتا ہے -سر زمین ایران کا حسن ہو یا سنہری دھوپ میں چمکتے ترک گاؤں یا وینس کی سحر انگیزی سب سامنے سے لگتے ہیں
  
 نکلے تیری تلاش سے اقتباس

 بازنطائن -قسطنطینہ – استنبول

وینس کی خوبصورتی کا انحصار سمنرد پر ہے پر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لئے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے – صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد- نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار- ترک سلطانوں کا محل سرا- شاخ زریں پر پل – الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لمبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑھے ہوں

 -”کوپن ہیگن کی دیوالی 
 
سیکینڈے نیویا” یعنی آنمارک، سویڈن اور ناروے کے باشندوں کے لئے کوپن ہیگن اسی حیثیت کا حامل ہے جو پیرس کی باقی یورپ کی نظروں میں ہے – جہاں پیرس ایک حسین شہزادی کی طرح ہر دور میں اپنےحسن پر نازاں ہے وہاں کوپن ہیگن اس نوجوان دیہاتی دوشیزہ کی مانند ہے جو کسی طرح بھی شہزادی سے کم حسین نہیں مگر اس میں تکبر نام کو نہیں – یہاں کسی سے راستہ پوچھ بیٹھیے تو خود چھوڑنے چلے جائیں گے بلکہ کھانے پر بلا لیں گے- ، ادھر یہی بات کیجیے تو کھانے کو آئیں گے-1167 میں بشپ اسبالون نے جس کا مجسمہ ٹاؤن ہال کے سامنے ایستادہ ہے اس شہر کا سنگ بنیاد رکھا اور یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا- یہ چھوٹی سی بندرگاہ جلد ہی ایک وسیع تجارتی مرکز کی صورت اختیار کرگئی اور اسی مناسبت سے سے کوپن ہیگن یعنی تاجروں کی بندرگاہ کہلائی
 
 
 سٹاک ہوم کی نیلی شفق

  اس خطے میں گرمیوں میں کسی بھی وقت تاریکی نہیں ہوپاتی- رات کو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دینے والی تاریکی کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں ہے ، وہ سویڈن آکر مہمل ہوجاتا ہے – گرمیوں میں گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے تو صبح دو بجے طلوع ہو جاتا ہے -یہاں تک کے صبح تین بجے دھوپ ہمارے ہاں کی تیز دوپہروں کی مانند چمک رہی ہوتی ہیں – طلوع و غروب کے درمیانی وقفے میں بھی زمین اور فلک کے درمیاں روشنی کی مدھم چادر بچھی رہتی ہے- اہل سویڈن اس روشنی کو نیلی شفق کا نام دیتے ہیں

 ایک خوبصورت نظم – ایمسٹر ڈیم
  
 ایمسٹر ڈیم” ایک خوبصورت نظم ہے جو دھیرے دھیرے دل میں اترتی رہتی ہے ایک ایسے ملک میں جو بظاہر تو بے جان اور بے حد سپاٹ ہے ۔ ایمسٹر ڈیم ایک دھڑکتے ہوئے حساس دل کی مانند ہے – ایک ایسا دل جس میں سینکڑوں نہریں حیات آفریں شریانوں کی مانند پھیلی ہوئی ہیں ایک جدید شہر ہونے کے باوجود ایمسٹر ڈیم میں دہیاتی اطوار کی جھلک موجود ہے – منٹ ٹاور کے پاس کشتیوں میں سجے پھولوں کا بازار ، سکوں اور خاموشی ، تنگ گلیوں میں سے آتی ہوئی لوک دھنوں کی سحر انگیزی موسیقی ، کبھی کبھار شیشے کی چھت والی کشتی اس خوبصورتی میں تیر جاتی تو پانی میں ہلکے تلاطم کی وجہ سے نہر میں تیرتی ہوئی لاتعداد بطخیں اپنے پر پھڑپھڑا کر کمان نما پلوں کی نیچے گھس جاتیں- ہر جگہ بہتا ہوا پانی نیلگوں آسمان ،لائم زرد کلیاں ۔ ایلم کے خوبصورت پتے ، نہروں پر لیٹے ہوئے پلوں کے بل کھاتے جنگلوں سے نیچے جھانکیں تو اپنا عکس جھلکنے لگتا ہے
  

موضوع : Uncategorized


تبصرے (7)


7 تبصرے

Comment by رضوان

بتاریخ Tuesday, 30 of June , 2009 بوقت 12:54 pm

مستنصر کے سفر ناموں نے جانے کتنوں‌کو گھروں سے نکالا اور دنیا دیکھنے کی راہ سجھائی.
ایک اور خاص بات یہ ہے کہ قاری کو ساتھ ساتھ لیکر چلتے ہیں. انکی کتابیں قاری کو اپنے ماحول سے نکال کر پہاڑوں وادیوں میں جا چھوڑتی ہیں.

Comment by رضوان

بتاریخ Tuesday, 30 of June , 2009 بوقت 12:56 pm

لو آپ کا شکریہ ادا کرنا تو بھول ہی گیا اتنے عمدہ اقتباسات شئیر کرنے کے لیے

Comment by محمد وارث

بتاریخ Wednesday, 1 of July , 2009 بوقت 1:59 am

واقعی لاجواب سفرنامہ ہے یہ اور مستنصر واقعی جدید سفرنامے کے موجد کہلوانے کے مستحق ہیں۔

بہت شکریہ اس قندَ مکرر کیلیے!

Comment by کنفیوز کامی

بتاریخ Wednesday, 1 of July , 2009 بوقت 7:44 am

اسلام علیکم امید اگر آپ مستنصر صاحب کے پروانوں میں سے ہیں تو میں بھی انکا ایک بہت زبردست چاہنے والا ہوں انکے بارے میں ھی انکے بارے میں لکھنے کا سوچ رہا تھا مگر وقت آڑے آرہا تھا خیر آپ نے لکھا اچھا لکھا میں شاید ایسا نہ لکھ سکتا ۔ آج مستنصر صاحب کی تحریر آپ کے ملنے کا بھانہ بن گئی آج سے آپ ہمارے ربط میں شامل ہیں چکر لگتا رہے گا ۔

Comment by admin

بتاریخ Saturday, 11 of July , 2009 بوقت 4:17 am

رضوان۔ ۔بہت شکریہ ۔ بہت اچھا لگا آپ کو اپنے بلاگ پر دیکھ کر ۔

اور مستنصر کے سفر نامے واقعی تحریک پیدا کرتے ہیں سفر پر نکلنے کی ۔ ۔

امید

Comment by admin

بتاریخ Saturday, 11 of July , 2009 بوقت 4:22 am

وارث ۔۔ بہت شکریہ واقعی مستنصر کے سفر نامے خوائش جگاتے ہیں کہ الحمرا کے ایونوں میں شب بسری کی جائے – تاریخ کو آنکھوں سے دیکھا جائے

امید

Comment by admin

بتاریخ Saturday, 11 of July , 2009 بوقت 4:25 am

کنفیوز کامی بہت شکریہ ۔ ۔مستنصر کے سفر ناموں کی خوبی ہے کہ مسحور کرتے ہیں
امید

اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

XHTML: آپ اِن ٹیگز کو استعمال کر سکتے ہیں: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>



بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔