“نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ
Tuesday 30 June 2009
نکلے تری تلاش میں” مستنصر کا سفر نامہ
بازنطائن -قسطنطینہ – استنبول”
وینس کی خوبصورتی کا انحصار سمنرد پر ہے پر استنبول میں سمندر شاخ زریں کا کشکول ہاتھ میں لئے شہر سے حسن کی بھیک مانگ رہا ہے – صوفیہ کا عظیم الجثہ گنبد- نیلی مسجد کے چھ نازک اندام اور باریک مینار- ترک سلطانوں کا محل سرا- شاخ زریں پر پل – الغلطہ اور اس گھنے جنگل میں سینکڑوں لمبے اور پتلے مینار ہر سو بکھرے ہوئے جیسے نیلے آسمان کے سینے میں تیز چمکتے ہوئے برچھے گڑھے ہوں
اس خطے میں گرمیوں میں کسی بھی وقت تاریکی نہیں ہوپاتی- رات کو ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دینے والی تاریکی کا جو تصور ہمارے ذہنوں میں ہے ، وہ سویڈن آکر مہمل ہوجاتا ہے – گرمیوں میں گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے تو صبح دو بجے طلوع ہو جاتا ہے -یہاں تک کے صبح تین بجے دھوپ ہمارے ہاں کی تیز دوپہروں کی مانند چمک رہی ہوتی ہیں – طلوع و غروب کے درمیانی وقفے میں بھی زمین اور فلک کے درمیاں روشنی کی مدھم چادر بچھی رہتی ہے- اہل سویڈن اس روشنی کو نیلی شفق کا نام دیتے ہیں
موضوع : Uncategorized
تبصرے (7)
Comment by رضوان
بتاریخ Tuesday, 30 of June , 2009 بوقت 12:54 pm
مستنصر کے سفر ناموں نے جانے کتنوںکو گھروں سے نکالا اور دنیا دیکھنے کی راہ سجھائی.
ایک اور خاص بات یہ ہے کہ قاری کو ساتھ ساتھ لیکر چلتے ہیں. انکی کتابیں قاری کو اپنے ماحول سے نکال کر پہاڑوں وادیوں میں جا چھوڑتی ہیں.
Comment by رضوان
بتاریخ Tuesday, 30 of June , 2009 بوقت 12:56 pm
لو آپ کا شکریہ ادا کرنا تو بھول ہی گیا اتنے عمدہ اقتباسات شئیر کرنے کے لیے
Comment by محمد وارث
بتاریخ Wednesday, 1 of July , 2009 بوقت 1:59 am
واقعی لاجواب سفرنامہ ہے یہ اور مستنصر واقعی جدید سفرنامے کے موجد کہلوانے کے مستحق ہیں۔
بہت شکریہ اس قندَ مکرر کیلیے!
Comment by کنفیوز کامی
بتاریخ Wednesday, 1 of July , 2009 بوقت 7:44 am
اسلام علیکم امید اگر آپ مستنصر صاحب کے پروانوں میں سے ہیں تو میں بھی انکا ایک بہت زبردست چاہنے والا ہوں انکے بارے میں ھی انکے بارے میں لکھنے کا سوچ رہا تھا مگر وقت آڑے آرہا تھا خیر آپ نے لکھا اچھا لکھا میں شاید ایسا نہ لکھ سکتا ۔ آج مستنصر صاحب کی تحریر آپ کے ملنے کا بھانہ بن گئی آج سے آپ ہمارے ربط میں شامل ہیں چکر لگتا رہے گا ۔
Comment by admin
بتاریخ Saturday, 11 of July , 2009 بوقت 4:17 am
رضوان۔ ۔بہت شکریہ ۔ بہت اچھا لگا آپ کو اپنے بلاگ پر دیکھ کر ۔
اور مستنصر کے سفر نامے واقعی تحریک پیدا کرتے ہیں سفر پر نکلنے کی ۔ ۔
امید
Comment by admin
بتاریخ Saturday, 11 of July , 2009 بوقت 4:22 am
وارث ۔۔ بہت شکریہ واقعی مستنصر کے سفر نامے خوائش جگاتے ہیں کہ الحمرا کے ایونوں میں شب بسری کی جائے – تاریخ کو آنکھوں سے دیکھا جائے
امید
Comment by admin
بتاریخ Saturday, 11 of July , 2009 بوقت 4:25 am
کنفیوز کامی بہت شکریہ ۔ ۔مستنصر کے سفر ناموں کی خوبی ہے کہ مسحور کرتے ہیں
امید