ناصر کاظمی..ایک ہی کمی ہے تو
Thursday 9 July 2009
ناصر کاظمی کا یہ کلام ہمیشہ سے بہت پسندیدہ ہے اور نصرت فتح علی کی آواز تو اسے اور بھی خوبصورت کرتی ہے
غم ہے یا خوشی ہے
تو میری زندگی ہے
آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو
میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو
میں خزاں کی شام ہوں
رت بہار کی ہے تو
دوستوں کے درمیاں
وجہ دوستی ہے تو
میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو
میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو
ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو
ناصر کاظمی
موضوع : Uncategorized
تبصرے (12)