امید

کلیات خلیل جبران….فلسفہء دوستی

Friday 14 August 2009

فلسفہء دوستی

تمہارا دوست وہ ہے جو تمہاری احتیاج پوری کرے

وہ تمہارا وہ کھیت ہے جس میں تم محبت کی تخم پوشی کرتے ہو

اسی کھیتی کو تم تشکر اوراطمینان کے ساتھ کاٹتے ہو

اور جب تمہارا دوست اپنے دل کی کوئی بات تم سے کہتا ہے – تو تم کو نہ اپنے دل کی “نہیں“ متردو کرتی ہے – نہ تم اس کو اپنی “ہاں“ سے محروم رکھتے ہو

اور جب وہ خاموش ہوتا ہے تب بھی تمہارا دل اس کے دل کی گفتگو سننے سے عاری نہیں ہوتا

اس لئے کہ بغیر الفاظ کی مدد کے ، دوستی کے افکار ، تمام خیالات ، “تمام خواہشات، تمام توقعات، تمام ارادے پیدا ہوتے ہیں
ان سے دوستوں کے لئے ایک مسرت حاصل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ بے طلب
اور دوستی کا کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ، سوائے اس کے کہ تم دوست کے ساتھ ایک مشترک روحانی گہرائی میں شریک ہوجاؤ

اس لئے کہ محبت نہیں چاہتی کہ اس کا بھید واضح ہو جاوے

اور جو کچھ تمہارے اندر بہتر اور اعلی تر ہے وہی دوست کو دو

اگر وہ چاہتا ہے تمہارے “مد“ کے “ جزو“ بھی دیکھے

تو اس کو اپنے دریا کی طغیانی بھی دیکھا دو -”

اس لئے کہ وہ تمہارا دوست ہی کیا ہے جسے تم صرف اس لئے ڈھونڈتے رہو کہ اس کی صحبت میں تم اپنا خالی وقت گزار سکو – وہ ساعتیں جو تم پر گراں ہیں-”

بلکہ دوست کو تو اس وقت ڈھونڈو جب تم بیداری عمل کا وقت گزارنا چاہو

اس لئے کہ دوست کا کام یہ ہے کہ وہ تمہارے تقاضوں اور تمہاری ضرورتوں کو پورا کرے
نہ یہ کہ تمہارے اوقات کے خالی کاسہ کو بھرا کرے !”

اور دوستی کی حلاوت میں اپنے تبسم کو ملادو ، اور اپنی مسرتوں کو مشترک کرلو

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)




بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔