امید

آمنہ بتول۔۔ اسے جانے کی جلدی تھی

Saturday 24 October 2009

 آمنہ بتول۔۔۔ آج اسلامک یونیورسٹی کی ایک اور طلباء اپنے زخموں سے ہارتے ہوئے خاموشیوں کے سفر پر روانہ۔

والدین کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی ایک بہن۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ کوئی شنا سائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ کوئی قربت۔۔۔

پر بہت دیر سے اس خبر نے باندھ رکھا ہے کہ کوشش کہ باوجود زندگی کی بے ثباتی پوری شدت سے محسوس ہورہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا جذبہ ہوتا ہے جو انسان کو اتنا سفاک کردیتا ہے

کہ وہ اپنے جیسے دھڑکتے دلوں بہت آسانی سے خاموش کردیتا ہے ۔۔۔۔۔ ہستی مسکراتی آنکھوں سے خواب چھین لیتا ہے؟ اکتوبر کی صبح آنکھوں میں ڈھیروں خواب لئے ۔۔۔ کچھ سیکھنے کے عزم میں گھر سے نکلتے ان قدموں نے کیا کبھی سوچا ہوگا کہ واپسی کا سفر اتنی خاموشی سے ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کے احاطے میں اپنی دوستوں کے ہمراہ کیفے ٹیریا کی طرف بڑھتے ہوئے اسے کیا خبر تھی کہ وہ اپنی موت سے ملنے جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موضوع : Uncategorized


تبصرے (5)




بارے کچھ مَن ۔۔۔

اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔