آمنہ بتول۔۔ اسے جانے کی جلدی تھی
Saturday 24 October 2009
آمنہ بتول۔۔۔ آج اسلامک یونیورسٹی کی ایک اور طلباء اپنے زخموں سے ہارتے ہوئے خاموشیوں کے سفر پر روانہ۔
والدین کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی ایک بہن۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی شنا سائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی قربت۔۔۔
پر بہت دیر سے اس خبر نے باندھ رکھا ہے کہ کوشش کہ باوجود زندگی کی بے ثباتی پوری شدت سے محسوس ہورہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا جذبہ ہوتا ہے جو انسان کو اتنا سفاک کردیتا ہے
کہ وہ اپنے جیسے دھڑکتے دلوں بہت آسانی سے خاموش کردیتا ہے ۔۔۔۔۔ ہستی مسکراتی آنکھوں سے خواب چھین لیتا ہے؟ اکتوبر کی صبح آنکھوں میں ڈھیروں خواب لئے ۔۔۔ کچھ سیکھنے کے عزم میں گھر سے نکلتے ان قدموں نے کیا کبھی سوچا ہوگا کہ واپسی کا سفر اتنی خاموشی سے ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کے احاطے میں اپنی دوستوں کے ہمراہ کیفے ٹیریا کی طرف بڑھتے ہوئے اسے کیا خبر تھی کہ وہ اپنی موت سے ملنے جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع : Uncategorized
تبصرے (5)
Comment by tania rehman
بتاریخ Saturday, 24 of October , 2009 بوقت 3:26 pm
یہ ایک ایسی خبر ہے جس پر لکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے سمجھ نہیں آتی کیا کہا جائے ۔ کیونکہ انسان اتنا بے حس ہو گیا ہے ۔ کہ اب تو موت بھی ایک عام سی بیماری لگتی ہے ۔ بتول تو بے گناہ تھی شہید ہو گی ۔ لیکن گناہگار ابھی تک کھلے عام پھیر رہے ہیں ۔
Comment by افتخار اجمل بھوپال
بتاریخ Saturday, 24 of October , 2009 بوقت 9:47 pm
پہلے دن اللہ کو پیاری ہونے والیوں میں ایک آمنہ طاہر تھی جو میرے دفتر کے ساتھی کی بڑی بہن کی پوتی تھی ۔ وہ تو جا ملیں اپنے پیدا کرنے والے سے ۔ اللہ پسماندگان کو صبر عطا فرمائے ۔
لیکن ہم نے کیا سبق سیکھا ۔ وہی بے راہروی وہی سب کچھ ۔ طالبان کو وحشی درندہ کہہ دیا اور ہمارا فرض پورا ہو گیا
Comment by عنیقہ ناز
بتاریخ Saturday, 24 of October , 2009 بوقت 11:11 pm
نہیں اجمل صاحب انہیں وحشی درندہ کہنا کافی نہیں۔ اگر آپ اسلام کے نکتہ ء نظر سے دیکھیں تو خون کا بدلہ خون ہوتا ہے۔ جنہوں نے یہ دہشت مچائ ہے اور جنکے دل اتنے سفاک ہیں کہ وہ معصوم لوگوں کو بھی نہیں بخشتے انکے ساتھ بھی اتنا ہی بد تر ہونا چاہئیے۔ ایسے سفاکوں کے ساتھ کس لئے نرم دلی اور کیوں انکے فلسفے کو ترویج دینے کی ضرورت۔
Comment by nazia
بتاریخ Sunday, 25 of October , 2009 بوقت 12:09 am
اللہ ان معصوم شہیدوں کو جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین
Comment by شاہدہ اکرم
بتاریخ Sunday, 25 of October , 2009 بوقت 12:00 pm
ايسی سبھی باتوں اور دُکھوں کے جواب ميں ہم کيا کرپاتے ہيں ؟ہمارے ہاتھ ميں کيا ہے وُہ پياری اور معصُوم بچياں جو اپنی عِلم کی پياس بُجھانے کی غرض سے نِکليں اور بھينٹ چڑھ گئيں ايسی سفاکی کی جِس کی مِثال نہيں مِلتی اور جِس کے بدلے ميں باقی بچوں کو گھروں ميں بند کر ديا گيا کيا چاہتے ہيں ہم لوگ؟
اپنے مُلک کی بقا اُس سے پيار کی اور کيا قيمت ادا کرنی ہوگی ؟