بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے
Thursday 31 December 2009
اُسے کہنا کہ بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے ۔۔۔
وہی گلیاں، وہی کُوچے، وہی سردی کا موسم ہے
موضوع : Uncategorized
تبصرے (13)
اُسے کہنا کہ بھیگی جنوری پھر لوٹ آئی ہے ۔۔۔
وہی گلیاں، وہی کُوچے، وہی سردی کا موسم ہے
موضوع : Uncategorized
تبصرے (13)
لفظ اگر شاعری کی صورت میں جڑے ہوں تو بہت سحر انگیزہوجاتے ہیں -
پر کیا کیا جائے کہ شاعری سے شغف کے باوجود ہمیشہ سے بہت ہی کم سخن دوستوں سے واسطہ رہا ہے اور شاذو نادر ہی یہ موقع ملتا ہے کہ بہت فرصت سے بیٹھ کر کاغذ پر اشعار رقم کئے جائیں- ایسی ہی ایک خوبصورت شام بہت سارے لکھےگئے اشعار آج یاد کے دریچوں پہ دستک دے رہے ہیں
یونہی شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بچھڑ کر لوگ ذیادہ جیا نہیں کرتے
گو میں رہا رہیں ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
ہم نے ہر دکھ کو محبت کی عنایت سمجھا
ہم کوئی تم تھے جو اوروں سے شکایت کرتے
جسے گنتے آپ آشنا ،جسے کہتے تھے آپ باوفا
میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو نہ یاد ہو
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی میرا بے حد خیال رکھتے ہیں
مجھے دشمن کے ارادوں پہ پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت میری عادت کردی
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہی شخص ہے جہاں میں کیا
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اسے دن بھر تتلیاں ستاتی ہیں
رات میں جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع : Uncategorized
تبصرے (2)
اس جگہ پر آپ اپنا تعارف پیش کر سکتے ہیں ۔ اپنے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ اپنی پسند یا نا پسند بیان کر سکتے ہیں ۔ یہ لکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اردو میں لکھنا کب اور کیوں شروع کیا ۔
یا یہاں پر اشتہار چلا سکتے ہیں ۔