پروین شاکر کی یاد میں
رواں صدی میں اردوادب کی خواتین شعرا کا ذکر پروین شاکر کے تذکرے کے بناء نامکمل سا لگتا ہے
خوشبو، صد برگ ، خود کلامی، انکار جیسی کتابوں کی تخلیق کار کو آج ہم سے بچھڑے چودہ برس بیت گئے ۔
پروین شاکر- تعارف
پروین شاکر 24 نومبر ،1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں -انگریزی ادب، لسانیات اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا-سول سروسزز اختیار کرنے سے پہلے نو سال تک تدریسی شعبے سے وابستہ رہیں- ١٩٨٦ میں سیکیٹری دوئم کی حیثیت سے سی بی آر اسلام آباد میں تقرر ہواپروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا
بعض نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ـانکی کتابوں کے نام ترتیب وار کچھ یوں ہیں ـ
خوشبو-١٩٧٦صد برگ ١٩٨٠خود کلامی ١٩٨٠انکار 1٩٩٠
ماہِ تمام ١٩٩٤
”خوشبو
ابر بہار نے
پھول کا چہرہ
اپنے بنفشی ہاتھ میں لے کر
ایسے چوما
پھول کے سارے دکھ
خوشبو بن کر بہہ گئے
پھول، خوشبو، ہوا، بادل، رنگ، تتلیاں ، موسم، پروین کی شاعری کے استعارے ہی نہیں بلکہ نوخیز اور نوعمر جذبوں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی
کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لو ٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی میں
صنف نازک سے تعلق رکھنے کی وجہ سے پروین کی شاعری میں نرم روی، نرم گفتاری ، محبتوں کے لئے خلوص، رشتوں کے لئے قربانی اور ایثار کے رنگ نمایا ں ہیں جو کے مشرق کی خواتین کا مزاج ہیں
- کمال ضبط کو میں خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
- میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی۔۔۔
- اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کسی وقت میں اپنا لوگو ۔ ۔
بجا طور پر پروین صنف نازک کے احساسات اور جذبات کی بہترین عکاسی پورے وقار کے ساتھ کرتی ہیں
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کر تنہائی میں
میرے چہرے پر تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی
ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی ، اس نے کمال کر دیا
اپنی زندگی میں ماہ تمام رقم کرتے ہوئے پروین نے شاید کچھ ایسا ہی سوچا تھا
موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں
کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے
عمر کا بھروسہ کیا، پل کا سات ہوجاے
اک بار اکیلے میں ، اس سے بات ہوجاے
دل کی گنگ سرشاری اس کوجیت لے لیکن
عرض حال کرنے میں احتیاط ہوجاے
ایسا کیوں کے جانے سے صرف ایک انسان کے
ساری ذندگانی ہی بے ثبات ہو جاے